Fri. Apr 10th, 2026

آرٹیمس 2 کی واپسی: خلاباز تین ہزار ڈگری گرمی کا سامنا کریں گے

394272 421128858


چاند پر اپنا مشن کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد آرٹیمس 2 کے عملے کے ارکان زمین پر واپس آنے والے ہیں۔ ان چار خلا بازوں نے زمین سے انسان کے سب سے دور سفر کرنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور وہ زمین سے زیادہ سے زیادہ 406,771 کلومیٹر کی دوری تک پہنچے۔

ان کی واپسی کا سفر مقامی وقت کے مطابق 10 اپریل کی رات مقامی وقت کے مطابق شام آٹھ بجے (پاکستان کے وقت کے مطابق ہفتے کی صبح آٹھ بجے) کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرِ الکاہل میں ’سپلیش ڈاؤن‘ (پانی میں اترنے) سے قبل زمین کے کرہ ہوائی میں تیز رفتار اور شدید گرم ہائپر سونک ری انٹری پر ختم ہو گا۔

10 روزہ طویل مشن کے دوران یہ ری انٹری اس عملے کے لیے آخری چیلنج ہو گی۔ یہ عمل بہت سے خطرات سے بھرپور ہے، لیکن ان کا خلائی جہاز انہیں محفوظ رکھنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آرٹیمس 2 کے خلا بازوں کو لے جانے والا اورائن کیپسول جب زمین کے کرہ ہوائی میں داخل ہو گا تو اس کی رفتار 11 کلومیٹر فی سیکنڈ (40,000 کلومیٹر فی گھنٹہ) سے زیادہ ہو گی۔ یہ کسی مسافر جیٹ طیارے کی رفتار سے 40 گنا زیادہ ہے۔

اگر ہم حرکی توانائی (کائنیٹک انرجی) کی بات کریں تو ری انٹری کے وقت اورائن کیپسول کی فی کلو گرام حرکی توانائی مسافر طیارے کے مقابلے میں تقریباً 2,000 گنا زیادہ ہو گی۔

کسی بھی دوسرے خلائی جہاز کی طرح اسے بھی اپنی رفتار کم کرنا ہو گی تاکہ پیرا شوٹ کھول کر زمین پر بحفاظت اترا جا سکے۔ خلائی جہاز زمین کے بالائی کرہ ہوائی میں داخل ہو کر ہوا کی رگڑ (ایرو ڈائنامک ڈریگ) کو بریک کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ رفتار کم کی جا سکے۔

کسی ہوائی جہاز کے برعکس، ری انٹری کرنے والے خلائی جہاز ہوا کی زیادہ سے زیادہ رگڑ پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں تاکہ رفتار کم کرنے میں مدد مل سکے۔

ری انٹری کے دوران رفتار میں یہ کمی بہت شدید ہو سکتی ہے، جسے ’جی فورسز‘ یا مختصراً ’جی‘ میں ناپا جاتا ہے۔ فارمولا ون کا ایک ڈرائیور موڑ کاٹتے وقت پانچ جی سے زیادہ قوت محسوس کرتا ہے، جو ایک انسان کے لیے بے ہوش ہوئے بغیر برداشت کرنے کی آخری حد کے قریب ہے۔

ناسا کے اورائن کیپسول جیسی گاڑیاں لفٹ فورسز کا استعمال کرتی ہیں تاکہ جی فورسز اس سطح تک کم ہو جائیں جسے انسان برداشت کر سکے اور ری انٹری کا عمل کئی منٹ تک جاری رہتا ہے۔

اورائن کیپسول آواز کی رفتار سے 30 گنا زیادہ تیزی سے کرہ ہوائی میں داخل ہو گا۔ ایک ’شاک ویو‘ خلائی جہاز کو گھیر لے گی، جس سے ہوا کا درجہ حرارت دس ہزار سیلسیئس یا اس سے بھی زیادہ ہو جائے گا، جو سورج کی سطح کے درجہ حرارت سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔ یہ شدید گرمی ہوا کو برقی چارج شدہ پلازما میں بدل دیتی ہے، جو عارضی طور پر ریڈیو سگنلز کو بلاک کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے خلا باز اس دوران رابطہ نہیں کر پائیں گے۔

خلائی جہاز کے راستے (ٹریجکٹری) کو اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ تپش کم سے کم ہو۔ اس کے علاوہ جہاز میں تھرمل پروٹیکشن سسٹم بھی موجود ہوتا ہے، جو ایک حفاظتی کمبل کی طرح کام کرتا ہے۔

ان مادوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ داخلے کے دوران سرخ ہو کر پگھلیں گے، لیکن وہ برقرار رہیں گے۔ یہ سرخ چمک گرمی کو واپس کرہ ہوائی میں خارج کر دیتی ہے تاکہ اسے خلائی جہاز جذب نہ کرے۔

اسی ڈیزائن کی بدولت آرٹیمس دس ہزار سیلسیئس کی ہوا سے گزرتے ہوئے اپنی ہیٹ شیلڈ کا درجہ حرارت صرف تین ہزار سیلسیئس کے قریب برقرار رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ زیادہ تر خلائی جہازوں کو ’ایبلیٹوز‘ (ablatives) نامی مادوں سے بچایا جاتا ہے، جو عام طور پر کاربن فائبر اور ایک خاص قسم کی گوند سے بنے ہوتے ہیں۔

اورائن کیپسول پر استعمال ہونے والے ہیٹ شیلڈ میٹریل کا نام AVCOAT ہے، جو 1960 اور 1970 کی دہائی کے اپالو مشنز میں بھی استعمال ہوا تھا۔

آرٹیمس ایک کے ٹیسٹ فلائٹ کے دوران ہیٹ شیلڈ سے مواد کے بڑے ٹکڑے الگ ہو گئے تھے، تاہم تجزیے کے بعد انجینiئرز نے آرٹیمس 2 کے مشن کے لیے اسی قسم کی ہیٹ شیلڈ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بار انجینیئرز نے راستے میں معمولی تبدیلی کی ہے تاکہ ہیٹ شیلڈ پر دباؤ کم رہے۔

یہ حیرت انگیز ہے کہ ناسا اور خلا باز اس مشن میں اب تک کیا کچھ حاصل کر چکے ہیں، لیکن بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، مجھے اس وقت زیادہ سکون ملے گا جب میں انہیں زمین پر محفوظ طریقے سے واپس آ کر خوش آمدید کہتے ہوئے دیکھوں گا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *