
(ویب ڈیسک) لبنان کے صدر عون نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز اور اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے اور اب تک اس کوشش کو “مثبت جواب” ملا ہے۔
یہ بات الجزیرہ نیوز کے لائیو بلاگ میں بتائی گئی ہے۔
الجزیرہ نیوز کے مطابق اسی دوران اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے بیروت سے درخواستیں موصول ہونے کے بعد لبنان کے ساتھ “جلد سے جلد” براہ راست مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کی بات آج ہفتہ کے روز ہی شروع ہوئی ہے۔ لبنانی وزیراعظم کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کی خواہش کے متعلق میڈیا میں خبریں آنے سے پہلے یہ خبریں آئی تھین کہ نواف سلام نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کر کے ان سے تصدیق کی کہ آیا لبنان کی حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ بند کرنا بھی مجوزہ جنگ بندی تجاویز کا حصہ ہے یا نہیں۔ اس کے بعد یہ خبر آئی کہ لبنان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے لئے رابطہ کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان نے اسرائیل سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کر دیا
اسرائیل اور لبنان کے دوران 28 فروری تک جنگ بندی ہی تھی جو امریکہ اور بعض یورپی ملکوں نے کروائی تھی۔ اس جنگ بندی کے نتیجہ میں لبنان کی حکومت نے حزب اللہ سے جنوبی لبنان کے طے شدہ علاقے خالی کروائے تھے اور اس سے ہتھیار واپس لینے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان پر حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا دیں گے، ایرانی صدر
ایران کی طرف سے لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی جنگ بند کروانے کے مطالبات پت امریکہ نے کل ہی واضح کر دیا تھا کہ مذاکرات کرنے کے لئے لبنان میْں جنگ بند کرنے کی کوئی تجویز کبھی نہیں مانی گئی۔ ایرانی حکومت کی طرف سے لبنان میں جنگ بند کرنے کے مطالبات تو سامنے آئے لیکن امریکہ کے واضح انکار کے بعد بھی انہوں نے اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر آنے کا ارادہ برقرار ہی رکھا ہواہے۔ یہ مذاکرات کل اتوار کی صبح شروع ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: ہم بھی جنگ بندی میں ہیں یا نہیں؟ لبنان کے وزیراعظم نواف سلام کی شہباز شریف سے بات
