|
امریکی اور ایرانی وفد اسلام آباد میں موجود ہے، جہاں فریقین کے درمیان امن مذاکرات جاری ہیں۔ امریکہ اور ایران نے پاکستان کی ثالثی میں دو روز قبل جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد یہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ لائیو اپ ڈیٹس |
اسلام آباد: امریکی و ایرانی وفود میں روبرو مذاکرات جاری، پاکستان بطور ثالث شامل
امریکی اور ایرانی وفد کے درمیان ہفتے کو اسلام آباد میں روبرو مذاکرات جاری ہیں، جس میں پاکستان بطور ثالث شامل ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان نصف صدی میں یہ اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات ہیں، جن کا مقصد چھ ہفتوں سے جاری جنگ کا خاتمہ کرنا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار قرۃ العین شیرازی کے مطابق سرینا ہوٹل میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہو رہے ہیں۔
ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذاکرات کل (بروز اتوار) بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔
ان مذاکرات سے قبل دونوں ملکوں کے وفود کی پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، حکومت عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔
ہفتے کو ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا: ’پاکستان آنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد پوری قوت کے ساتھ ایران کے مفادات کا مضبوط محافظ ہے اور اسی جذبے کے تحت وہ جرات کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے گا۔‘
بقول مسعود پزشکیان: ’کسی بھی صورت میں عوام کی خدمت ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکے گی اور مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی ہو، حکومت عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔‘
امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے اقدامات شروع کر دیے: سینٹ کام
یو ایس سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر کہا ہے کہ امریکی افواج نے 11 اپریل کو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
سینٹ کام نے کہا کہ امریکی جہازوں نے خلیج عرب میں ایک وسیع مشن کے حصے کے طور پر کام کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آبنائے ہرمز ایران کی جانب سے بچھائی گئی سمندری بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف ہے۔
سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ ’آج، ہم نے ایک نیا راستہ قائم کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور ہم جلد ہی اس محفوظ راستے کو سمندری صنعت کے ساتھ اشتراک کریں گے تاکہ تجارت کے آزادانہ بہاؤ کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔‘
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور وہاں فی الحال کوئی ٹریفک نہیں ہے، یہاں تک کہ ایک ’امریکی ڈسٹرائر‘ کو بھی اجازت نہیں دی گئی جو آبنائے سے گزرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
پاکستانی وزیراعظم کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو امریکہ اور ایران سے آئے وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔
دفتر خارجہ سے پہلے جاری بیان کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے جبکہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کر رہے تھے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ سینیٹر محسن رضا نقوی نے کی۔
بیان میں بتایا گیا کہ ’دونوں وفود کے تعمیری مذاکرات کے لیے عزم کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔‘
بیان کے مطابق وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کی جانب پیش رفت کے لیے دونوں فریقین کی سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔
بعدازاں دفتر خارجہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ایرانی وفد سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر جناب محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے مفاد میں بامعنی نتائج کے حصول کے لیے پیش رفت کو تیز کرنے میں بطور ثالث اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے مخلص ہے۔‘
پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی نے اجلاس میں شرکت کی۔
یہ واضح نہیں ہے کہ وزیراعظم کی ملاقات پہلے امریکی وفد سے ہوئی یا ایرانی وفد سے۔
اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ان ابتدائی ملاقاتوں کے آغاز کے ساتھ ہی ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی وفد وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ امریکی فریق کے ساتھ باضابطہ مذاکرات آگے بڑھائے یا نہیں۔
ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی معاہدے میں ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
تاہم امریکی وفد کے سربراہ جے ڈی وینس کہہ چکے ہیں کہ لبنان کا معاملہ اسلام آباد مذاکرات کا حصہ نہیں ہو گا۔
دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ہفتے کو کہا ہے کہ اسلام آباد اس وقت ایران کے خلاف جاری ایک ’غیرقانونی جنگ‘ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی میزبانی کر رہا ہے۔
ایکس پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ جنگ نہ صرف ایرانی قوم اور تہذیب کے خلاف ایک کھلا جرم ہے بلکہ اس نے خطے اور دنیا کی سکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایرانی سفیر کے مطابق اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ پاکستان کی ان ’نیک کاوشوں‘ اور ثالثی کی کوششوں کا احترام کرتا ہے یا نہیں۔
امریکہ کی ایران کے منجمد اثاثے کھولنے پر رضامندی کی خبر کی تردید
ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے ہفتے کو اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں رکھے گئے ایران کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ایران اور امریکہ کے وفود مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔
تہران اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ لڑائی کے مستقل خاتمے کے کسی بھی معاہدے میں ایران کے پابندیوں کا شکار اثاثوں کو غیر منجمد کرنا اور لبنان میں اسرائیل کی جنگ کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔
ایک ’سینیئر ایرانی ذرائع‘ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ ان اثاثوں کو غیر منجمد کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے اور یہ اقدام آبنائے ہرمز میں محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری پیغام میں امریکی عہدیدار نے اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا: ’یہ خبر غلط۔ ہے، ملاقاتیں ابھی شروع بھی نہیں ہوئی ہیں۔‘
امریکہ منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامند: ایرانی ذرائع
ایک سینیئر ایرانی ذریعے نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ امریکہ نے قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔
ذریعے نے اس اقدام کو اسلام آباد میں واشنگٹن کے ساتھ جاری مذاکرات میں ’سنجیدگی‘ کی علامت قرار دیا۔
امریکہ نے منجمد اثاثوں کی بحالی کے معاملے پر کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔
اس ذریعے نے، معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، روئٹرز کو بتایا کہ اثاثوں کو بحال کرنا براہ راست آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی یقین دہانی سے جڑا ہوا ہے، جسے بات چیت کے اہم نکات میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
ایران امریکہ مذاکرات پر اسلام آباد سے اب تک کی تازہ صورت حال
امریکی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا
ایران سے مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے وفد کا استقبال کیا۔
بیان کے مطابق وفد کا استقبال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے قیام کے لیے امریکہ کے عزم کو سراہا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں بات چیت کریں گے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فریقین کو دیرپا اور مستقل حل تک پہنچانے کے لیے اپنا معاون کردار جاری رکھنا چاہتا ہے۔
امریکہ اور ایران میں مذاکرات آج
امریکہ اور ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اہم مذاکرات آج بروز ہفتہ اسلام آباد میں ہونے جا رہے ہیں۔
ان مذاکرات کے لیے ایران کے پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں 70 سے زائد ارکان پر مشتمل ایرانی وفد جمعے کی رات اسلام آباد پہنچ چکا ہے جب کہ امریکی وفد کی آمد آج متوقع ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے موقعے پر دارالحکومت میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ مرکزی شاہراہیں بند کر کے فوج، رینجرز اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعنیات کیے گئے ہیں۔
ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
پاکستانی دفتر خارجہ سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب جاری بیان کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ہفتے کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کا استقبال نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کیا، جن کے ہمراہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی سمیت دیگر نے کیا۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے امید ظاہر کی کہ فریقین تعمیری انداز میں مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تنازعے کے پائیدار اور دیرپا حل کے حصول کے لیے اپنی سہولت کاری جاری رکھے گا۔
اسلام آباد پہنچنے پر ایرانی سرکاری ٹی وی کے ذریعے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ’ہمارے ارادے نیک ہیں لیکن ہم امریکہ پر اعتبار نہیں کرتے۔
’امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کا ہمارا گذشتہ تجربہ ہمیشہ ناکامی اور وعدہ خلافیوں پر ہی منتج ہوا۔‘
امریکی نائب صدر اسلام آباد روانہ
امریکی وفد کی قیادت کرنے والے نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کو واشنگٹن سے اسلام آباد روانگی کے وقت خاصے محتاط دکھائی دیے۔
وفد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف شامل ہیں۔
پاکستان روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس کا کہنا تھا ’اگر ایرانی قیادت نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو ہم بھی یقینی طور پر کھلے دل کے ساتھ تعاون کا ہاتھ بڑھائیں گے۔‘
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’اگر انہوں نے ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش کی تو انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری مذاکراتی ٹیم اتنی لچک دکھانے والی نہیں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
واضح رہے کہ ایران نے اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت کو لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی سے مشروط کر رکھا ہے، تاہم تاحال ان میں سے کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں ہو سکا۔
اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ہفتے پر محیط اس جنگ بندی کی شرط کے طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کی بدولت درحقیقت یہ مذاکرات ممکن ہو سکے ہیں۔
یہ اہم آبی گزرگاہ، جہاں سے دنیا کے خام تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، معمول کی ٹریفک کے لیے تاحال بحال نہیں ہو سکی۔
اس حوالے سے صدر ٹرمپ نے جمعے کو اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ایران کے تعاون کے ’ساتھ یا اس کے بغیر‘ اسے جلد از جلد کھلوا لیں گے۔
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’اسلام آباد مذاکرات میں ان کی اولین ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہوں کوئی جوہری ہتھیار نہیں۔ یہی ہمارا 99 فیصد مقصد ہے۔‘
