- ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کا آج دوسرا دن ہے۔
- ایران کے سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حملوں میں موت کی تصدیق کر دی۔
ایران – امریکہ لڑائی کے پہلے دن کا احوال
صبح 8 بجے: آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر بھی حملوں میں جان سے گئے
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ ملک پر امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر علی شمخانی جان سے چلے گئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی شمخانی طویل عرصے سے ایران کے سکیورٹی نظام میں ایک نمایاں شخصیت رہے ہیں۔
ارنا نے میجر جنرل محمد پاکپور کی موت کا بھی اعلان کیا، جنہوں نے گذشتہ جون کی 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں سابق کمانڈر کی موت کے بعد پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔
صبح 7 بج کر 25 منٹ: پاسدارن انقلاب کا اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر ’شدید ترین‘ جارحانہ کارروائی شروع کرنے کا اعلان
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکی اڈوں پر ’شدید ترین‘ جارحانہ کارروائی چند ہی لمحوں میں شروع ہونے والی ہے۔
صبح 7 بجے: ایران کی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کی تصدیق، 40 روزہ سوگ کا اعلان
ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے بڑے حملے کے نتیجے میں جان سے چلے گئے ہیں۔
اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے پہلے ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ایرانیوں کو اپنا ملک ’واپس لینے‘ کا ’سب سے بڑا موقع‘ فراہم کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی بیٹی اور داماد بھی جان سے گئے۔
فارس نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کو ہونے والے حملوں میں خامنہ ای کا پوتا یا نواسہ اور بہو بھی جان سے گئے۔
صبح 6 بج کر 45 منٹ: دشمن کی مکمل شکست تک آپریشن وعدہ صادق 4 جاری رہے گا: ایران
ایران کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ دشمن کی مکمل شکست تک آپریشن وعدہ صادق 4 جاری رہے گا۔
ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ ماضی کی طرح آپریشن وعدہ صادق 4 جاری رکھنے کے لیے مسلح افواج کو سبھی اسلحہ جاتی اور ضروری وسائل کی مکمل سہولتیں فراہم کی جائيں گی اور دشمنوں کی مکمل شکست تک آپریشن جاری رہے گا۔
وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ جرم اور جارحیت سے امریکہ کی ناکامی اور غاصب صیہونی حکومت کے تزلزل اور کیفر کردار پہنچنے کے عمل میں تیزی آئے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ جیسا کہ سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای نے تاکید فرمائی ہے، ایران کی مسلح افواج اس بار ملت ایران کی مکمل حمایت سے دشمنوں کو زیادہ محکم اور زیادہ پشیمان کردینے والی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔
صبح 6 بج کر 30 منٹ: اسرائیل کا نیا حملہ
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کو ایرانی بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے نیا حملہ شروع کیا ہے جبکہ تہران میں ایک اے ایف پی صحافی نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔
اے ایف پی کے مطابق ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے ’ایرانی نظام کے بیلسٹک میزائل کے نظام اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ایک اضافی حملہ شروع کیا ہے‘، تاہم اس نے کسی مقام کی وضاحت نہیں کی۔
اے ایف پی کے صحافی کے مطابق تہران میں تقریباً 00:30 جی ایم ٹی کے قریب کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
اسرائیل کے فوجی سربراہ ایال زامیر نے ہفتے کو کہا کہ ایران کے خلاف یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب اس نے اپنی بیلسٹک میزائل کی پیداوار ’تیز‘ کردی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تحقیق کو جاری رکھا۔
انہوں نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا: ’ہم اب ایرانی دہشت گرد نظام کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم، فیصلہ کن اور بے مثال کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘
صبح 6 بج کر 15 منٹ: خامنہ ای کی موت پر ٹرمپ کے پیغام کا مکمل متن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اعلان کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مار دیا گیا ہے، تاہم ایران نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
یہ پیغام انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تاریخ کے سب سے برے لوگوں میں سے ایک خامنہ ای مر چکے ہیں۔ یہ نہ صرف ایرانی عوام کے لیے بلکہ تمام امریکیوں اور پوری دنیا کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور اس کے خونخوار غنڈوں کے ہاتھوں مارے گئے یا معذور ہوئے ہیں۔‘
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا: ’وہ ہماری انٹیلی جنس اور انتہائی جدید ترین نگرانی کے نظام سے بچ نہیں سکے۔ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ ان کے پاسداران انقلاب، اسلامی انقلابی گارڈز، فوج، دیگر سکیورٹی فورسز اور بہت سے لوگ اب لڑنا نہیں چاہتے ہیں، اور ہم سے تحفظ کے لیے کہہ رہے ہیں جیسا کہ میں نے گذشتہ رات کہا تھا، اب ان کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس ملک کو صرف ایک دن میں بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور تقریباً تباہ ہو چکا ہے، بغیر کسی وقفے کے، اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ہمارا مقصد مشرق وسطیٰ اور حقیقتاً پوری دنیا میں حاصل نہیں ہو جاتا۔‘
ادھر سیٹلائٹ تصاویر میں تہران میں ایرانی سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پہنچنے والا نقصان دکھایا گیا ہے۔ حملے کے بعد عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای حملوں میں مارے گئے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای زندہ اور خیریت سے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اسرائیلی میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ کہ ایرانی رہنما کو قتل کر دیا گیا ہے۔
اے بی سی کی سیاسی نامہ نگار ریچل سکاٹ کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ابھی بتایا ہے کہ وہ ’یقین رکھتے ہیں‘ کہ ایران کے مذہبی رہنما مر چکے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ’یقینی طور پر‘ جانتے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’میں اس وقت تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہنا چاہتا جب تک میں کچھ نہ دیکھوں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ چلے گئے ہیں اور ان کے زیادہ تر لیڈروں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف ایک جگہ پر بلکہ دو اور جگہوں پر، جن پر ہم نے حملہ کیا۔ ہمارے پاس اچھی انٹیلی جنس تھی اور اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے۔‘
