
(ویب ڈیسک)ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے عوامی سطح پر سفارتی کوششوں میں مصروف ہونے کے باوجود ایران پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ باقر قالیباف کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب اسلام آباد مین پاکستان کی سرکردی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ ڈی ایسکلیشن کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لئے مشاورت کر رہے تھے۔ الجزیرہ نیوز، اسرائیل کے میڈیا اور امریکی میڈیا میں نمایاں شائع ہوا ہے۔
پاکستان، ترکی، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
ینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں تک امریکی زمینی کارروائیوں کے لیے تیار
اسی دوران امریکہ کے مؤقر ترین اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر پینٹاگون ایران کے اندر جا کر کئی ہفتوں پر محیط زمینی کارروائیوں کے لئے تیاری کر چکا ہے۔ یہ منصوبے، جو کہ اب تک سامنے آنے والی لیکس کے مطابق “مکمل حملے” سے قدرے کم ہیں، ان میں خصوصی آپریشنز اور روایتی پیادہ دستوں کے چھاپے شامل ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ نے وزارتِ دفاع کے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پینٹاگون ایران میں ہفتوں تک “محدود زمینی کارروائیوں” کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ممکنہ طور پر جزیرہ خرگ (کئی دیگر جزائر) اور آبنائے ہرمز کے قریب ky ساحلی مقامات پر چھاپے شامل ہیں۔
ہفتے کے روز (پاکستان میں اتوار کا آغاز)واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا، جو مکمل حملے سے کم ہیں، ان میں خصوصی آپریشنز اور روایتی پیادہ دستوں کے چھاپے شامل ہو سکتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا یہ یہ حملے کرنے کے بعد امریکی اہلکار ایرانی ڈرونز اور میزائلوں، زمینی فائرنگ اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد سکے نشانے پر آ سکتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان منصوبوں میں سے کسی کو منظور کریں گے یا نہیں، یہ غیر یقینی ہے۔
صدر نے فیصلہ اب تک نہیں کیا: وائٹ ہاؤس کی وضاحت
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کے سامنے ٓانے کے بعد اس پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایک بیان میں کہا، “یہ پینٹاگون کا کام ہے کہ وہ کمانڈر ان چیف کو زیادہ سے زیادہ اختیار دینے کے لیے تیاری کرے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صدر نے کوئی فیصلہ کر لیا ہے۔”
اس خاص تیاری کی خبریں امریکہ کے کم از کم دو دوسرے نیوز آؤٹ لیٹ پہلے ہی دے چکے ہیں۔ اور کسی بھی رپورٹ کو وائٹ ہاؤس نے غلط قرار نہیں دیا۔ واشنگٹن پوسٹ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی میرینز کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا ہے۔ اور اب انتظامیہ فوج کے 82 ویں ایئربورن سے ہزاروں فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کا بھی منصوبہ بنا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکہ ایران میں سپیشل فورسز کو بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے
یہ بھی پڑھیئے: مذاکرات نہیں تو زمینی قبضہ؛ امریکہ کیا تیاری کر رہا ہے، باخبر ویب سائٹ کی رپورٹ
ہفتے کے روز، امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا کہ تقریباً 3,500 اضافی فوجی یو ایس ایس طرابلس پر سوار ہو کر مشرق وسطیٰ پہنچے ہیں۔
سینٹ کوم CENTCOM کے مطابق، ملاح اور میرینز 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے ساتھ ہیں اور 27 مارچ کو “ٹرانسپورٹ اور سٹرائیک فائٹر ہوائی جہاز کے ساتھ ساتھ امبیبیئس حملہ اور ٹیکٹیکل اثاثوں” کے ساتھ خطے میں پہنچے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ گزشتہ ماہ انتظامیہ کے اندر ہونے والی بات چیت میں خلیج میں ایرانی تیل کی برآمد کا ایک اہم مرکز، جزیرہ خرگ پر ممکنہ قبضے اور آبنائے ہرمز کے قریب دیگر ساحلی علاقوں میں چھاپے مارے جانے کے بارے میں بات ہوئی ہے تاکہ ایسے ہتھیاروں کو تلاش اور تباہ کیا جا سکے جو فوجی تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
کارروائی کا دورانیہ کچھ ہفتے؟ دو ماہ؟
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایک اہلکار نے کہا کہ زیر غور مقاصد کو مکمل ہونے میں ممکنہ طور پر ” مہینے نہیں” ہفتے لگیں گے، جب کہ دوسرے نے ممکنہ ٹائم لائن کو “دو ماہ” پر رکھا۔
پینٹاگون نے ہفتے کے روز پوسٹ کی تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا تھا۔ ایران نے ابھی تک اس رپورٹ پر ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
پاکستان کی سفارت کاری اور امریکہ کی تیاری
الجزیرہ نیوز نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، جو ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل (559 میل) سرحد کا اشتراک کرتا ہے، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کرتا نظر آ رہا ہے، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اتوار کو شروع ہونے والے دو روزہ مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
ایرانی دھمکیاں؛ ہمارے فوجی تو ان کا انتظار کر رہے ہیں: باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے آج اتوار کو کہا کہ “دشمن کھلم کھلا تو مذاکرات اور بات چیت کے پیغامات بھیجتا ہے اور خفیہ طور پر زمینی حملے کا منصوبہ بناتا ہے”۔
ایرانی کی پاسداران سے منسلک تسنیم خبر رساں ادارے نے سپیکر محمد باقر قالیباف کو یہ کہتے بتایا، “اس بات سے بے خبر کہ ہمارے لوگ زمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگائی جائے اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کے لیے سزا دی جائے۔ ہماری فائرنگ جاری ہے۔ ہمارے میزائل اپنی جگہ موجود ہیں”۔
یہ بھی پڑھیئے: زمینی فوج کے ساتھ ایرانی حکومت کو ختم کر سکتے ہیں: نیتن یاہو
یہ بھی پڑھیئے: پینٹاگون ایران میں کئی ہفتوں کی زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے:واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ
انہوں نے کہا، “ہمارا عزم اور ایمان بڑھ گیا ہے۔ ہم دشمن کی کمزوریوں سے واقف ہیں، اور ہم دشمن کی فوج میں خوف اور دہشت کے اثرات کو واضح طور پر دیکھ رہے ہیں۔”
الجزیرہ نے لکھا کہ یہ واضح نہیں تھا کہ آیا غالب پوسٹ کی رپورٹ کا جواب دے رہے تھے۔
تعاون کرنے والے ملک کے انفراسٹرکچر پر حملے کر کے جواب دیں گے، غالیباف
بدھ کے روز، ایران کے نئے مذاکرات کار غالیباف نے خبردار کیا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ “ایران کے دشمن” خطے کے ایک نامعلوم ملک کی حمایت سے ایرانی جزیرے پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
غالیباف نے کہاتھا کہ ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ “علاقائی ملک” کے “اہم انفرسٹرکچر” پر ٹارگٹ حملوں سے کیا جائے گا – اس ملک کا قالیباف نے نام نہیں لیا جس کو ان کی فوج ایران پر زمینی حملہ ہونے کی صورت میں سزا دے گی۔ انہوں نے البتہ یہ واضح کہا کہ ان کا ٹارگٹ وہ ملک ہو گا جو ان کے بقول امریکہ کے زمینی کارروائی کے ممکنہ آپریشن میں معاون ہے۔
ابرہام لنکن کو نشانہ بنانے کی تیاری
دریں اثنا، ایران کی بحریہ کے سربراہ شہرام ایرانی نے اتوار کے روز کہا کہ اگر یو ایس ایس ابراہام لنکن طیارہ بردار بحری جہاز رینج میں آتا ہے تو اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
“جیسے ہی یو ایس ایس ابراہام لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ فائرنگ کے دائرے میں آئے گا، ہم دینا جنگی جہاز کے شہیدوں کے خون کا بدلہ مختلف قسم کے سمندر سے سمندر تک مار کرنے والے میزائلوں کو داغ کر لیں گے،” ایرانی نے 4 مارچ کو امریکہ کے ذریعے ڈوبنے والے ایرانی فریگیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری ٹی وی کے حوالے سے کہا۔
بحیرہ احمر کے دہانے پر نیا محاذ بھی کھلے گا، تسنیم نیوز
بدھ کو پاسداران کی تسنیم ننیوز ایجنسی نے ایک نامعلوم عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اگر ایرانی جزائر یا ہماری سرزمین میں کسی اور جگہ پر فوجی کارروائی کی گئی تو ایران بحیرہ احمر کے منہ پر ایک نیا محاذ کھول سکتا ہے۔
ایران کے فوجی ذرائع نے تسنیم کو بتایا کہ ایران آبنائے باب المندب میں ایک “قابل اعتماد خطرہ” بن سکتا ہے، جو یمن اور جبوتی کے درمیان واقع ہے۔
تسنیم نے بعد میں ایک “باخبر ذریعہ” کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یمن کے حوثی باغی، جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے، “اگر دشمن کو مزید سزا دینے کے لیے آبنائے باب المندب کو کنٹرول کرنے کی ضرورت پڑی تو” کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ڈپلومیسی کےساتھ پینٹاگون کی تیاری
ایران کی تیاریوں اور دھمکیوں سے قطع نظر یہ تقریباً واضح ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سیاسی لوگ کچھ بھی کر رہے ہیں، اس دوران پینٹاگون پیچیدہ زمینی جنگ کی تیاری کو آگے بڑھا رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کی نئی رپورٹ کاس سے پہلے آ چکی میڈیا لیکس کا تسلسل ہیں۔ ان رپورٹوں کے بعد ایران سے دو نمایاں شخصیات کے عوامی سطح پر بیانات بھی واضح ہیں۔ اس دوران اسلام آباد کی سفارتی کوششیں تاہم امید کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
