
(ویب ڈیسک) ایران کے ایک سینئیر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کے ضمن میں ایران کی حکومت کو 15 نکات بھیجے ہیں۔ ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ امرتیکہ سے پندرہ نکات موصول ہوئے ہیں، ان نکات کا جائزہ لینے کے بعد بیان جاری کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے امریکہ کی نیوز آؤٹ لیٹ سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ حکومت کو امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے کچھ نکات موصول ہوئے ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان نکات کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ بیان جاری کیا جائے گا ۔
گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو ایک بار پھر حیران کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ تعمیری بات چیت کے بعد بجلی گھروں پر حملے کو 5 روز کیلئے مؤخر کر دیا گیاہے ۔
آج تہران میں ایرانی حکومت نے تصدیق کر دی کہ ان کی واقوی صدر ٹرمپ کے ساتھ کمیونیکیشن ہوئی ہے اور بات آگے بڑھی ہے۔ اس سے پہلے ایران کی حکومت بار بار سختی سے امریکہ کے ساتھ کسی رابطہ کاری کی تردیدیں کرتی رہی اور امریکی حکام بھی ایسی کسی رابطہ کاری کے متعلق عمومی خاموشی اختیار کئے رہے۔
پاسداران انقلاب کی کارروائیاں بدستور جاری
جنگ بندی کے لئے رسمی مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی خوشخبریاں آنے کے ساتھ یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ ایران کے پاسداران انقلاب نے “آپریشن وعدہ صادق4” کی “79ویں لہر “کا آغاز کرنے کا اعلان کر دیاہے اور کہا کہ نئے حملوں میں سجیل، عماد اور خیبر شکن میزائلوں کا استعمال کیا گیا،تل ابیب، رامات گان، نیگیو اور بیرشیبہ میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
آج ہی ایرانی میڈیا نے بتایا کہ باقر ذوالقدر کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سیکریٹری مقرر کر دیا گیاہے، باقر ذوالقدر کو علی لاریجانی کی خالی کی ہوئی جگہ پرمقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران کی جنگ روکنے کیلئے 6 اسٹریٹجک شرائط پیش
یہ بھی پڑھیئے: پاکستان مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمےکیلئے بامقصد مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے، وزیراعظم
یہ بھی پڑھیئے: ایران،امریکا مذاکرات پر ابہام، وائٹ ہاؤس نے قیاس آرائیاں مسترد کر دیں
