Thu. Mar 5th, 2026

امریکی سپریم کورٹ میں10 سال بعد ہم جنس شادی کا فیصلہ کالعدم قرار دینےکی درخواست

news 1762611904 8497



news 1762611904 8497

(ویب ڈیسک) امریکا کی اعلیٰ عدالت کے مشہور کیس اوبرجفیل بنام ہاجز (Obergefell v. Hodges) کے تاریخی فیصلے کے 10 سال بعد، امریکہ کی سپریم کورٹ ایک بار پھر اس مسئلے پر غور کرنے جا رہی ہے کہ آیا ہم جنس شادی ملک بھر میں قانونی طور پر جائز رہنی چاہیے یا نہیں۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس وقت منظرعام پر آیا ہے جب کینٹکی کی سابق کلرک کم ڈیوس (Kim Davis) نے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی ہے کہ وہ 2015 کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے امریکہ میں ہم جنس شادی کو قانونی حیثیت دی تھی۔ ڈیوس نے ساتھ ہی 3,60,000 ڈالر کے ہرجانے کے فیصلے کو بھی چیلنج کیا ہے جو ان کے خلاف دیا گیا تھا۔جمعہ کو ججز نے اس معاملے پر ایک نجی اجلاس میں غور کیا  اور اس لمحے نے امریکہ میں ایک بار پھر سیاسی اور آئینی بحث چھیڑ دی ہے۔کم ڈیوس وہ سرکاری اہلکار تھیں جنہوں نے 2015 میں ہم جنس جوڑوں کو شادی کے لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس انکار کے باعث انہیں کچھ عرصے کے لیے جیل بھی جانا پڑا۔ڈیوس کا مؤقف ہے کہ ان کا اقدام مذہبی عقیدے پر مبنی تھا، اس لیے وہ ذمہ دار نہیں ٹھہرائی جا سکتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم انہیں مذہبی آزادی فراہم کرتی ہے، لہٰذا وہ کسی بھی نقصان یا ہرجانے کی پابند نہیں۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اوبرجفیل بنام ہاجز کے فیصلے کو الٹ دیا جائے کیونکہ ان کے مطابق آئین میں ہم جنس شادی کا کوئی صریح حق موجود نہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قدامت پسند حلقوں میں دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جسٹس کلیرنس تھامس نے پہلے بھی اشارہ دیا تھا کہ اس فیصلے پر نظرثانی ہونی چاہیے، اور ٹرمپ انتظامیہ کے دوران قدامت پسند قانونی گروپس نے ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) حقوق کو محدود کرنے کی کوششیں کیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی ہلچل کے باوجود اوبرجفیل بنام ہاجز  کا فیصلہ آئینی بنیادوں پر اب بھی مضبوط ہے۔میری بوناؤٹو (Mary Bonauto)، جو 2015 میں ہم جنس شادی کے حق میں وکیل تھیں، کہتی ہیں کہ لاکھوں امریکیوں نے اپنی خاندانی زندگی، مالی منصوبے اور والدین کے حقوق اسی فیصلے پر قائم کیے ہیں۔سابق جسٹس انتھونی کینیڈی، جنہوں نے یہ تاریخی فیصلہ لکھا تھا، نے حال ہی میں کہا کہ چونکہ اس فیصلے پر بے شمار لوگ انحصار کر چکے ہیں، اس لیے اسے تبدیل کرنا سماجی اور قانونی طور پر نقصان دہ ہوگا۔2015 کے بعد عدالت کی آئیڈیالوجیکل ساخت میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ، تین ججز جنہیں  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نامزد کیا تھا، اب عدالت میں موجود ہیں۔تاہم عدالت کے اشارے اب تک ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس فیصلے کو کھولنے میں ہچکچاہٹ دکھا رہی ہے۔جسٹس ایمی کونی بیرٹ (Amy Coney Barrett) نے شادی کو ایک بنیادی حق قرار دیا ہے جو ماضی کے فیصلوں میں تسلیم کیا جا چکا ہے، جبکہ جسٹس سیموئیل الیٹو (Samuel Alito) نے اگرچہ اس فیصلے پر تنقید کی ہے، مگر کہا ہے کہ وہ اسے ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد عوامی رائے بھی بدل چکی ہے۔ اب امریکہ میں ہم جنس شادی کو وسیع عوامی حمایت حاصل ہے، اور 2022 میں دو جماعتوں ڈیموکریٹ اور ریپبلیکن کی حمایت سے ایک قانون منظور کیا گیا جس کے تحت تمام ریاستوں کو ایسے نکاح تسلیم کرنا لازم ہے۔سپریم کورٹ کو کسی کیس کو سننے کے لیے کم از کم چار ججوں کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امکان یہی ہے کہ عدالت یہ کیس لینے سے انکار کر دے گی  اور یہ فیصلہ پیر تک آ سکتا ہے۔اگر عدالت کیس کو قبول کر لیتی ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ وہ ہم جنس شادی کے فیصلے کی آئینی حیثیت کو دوبارہ پرکھنے کے لیے تیار ہے۔ اس صورت میں معاملہ کئی سال تک چل سکتا ہے، اور امریکہ میں دوبارہ ایک ریاستی سطح پر مختلف قوانین کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرکٹ کو ایشیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک تک فروغ دینا چاہتے ہیں،محسن نقوی
 
 

 
 

 
 
 
 
 

 
 

 

 
 

 





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *