Mon. Feb 23rd, 2026

امریکی محصولات میں اضافہ قبول نہیںیورپی یونین

news 1771786686 5121



news 1771786686 5121

(ویب ڈیسک) یورپی یونین کا امریکی صدر ک ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنی سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کر کے  امریکہ آنے والی مصنوعات پر  ٹیرف بڑھانے کے اعلان پر سخت ردعمل دیا ہے۔

یورپی یونین نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف بڑھانے کے اعلان  کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ  امریکہ  گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے کی شرائط پر قائم رہے، اب جو اعلان کیا جا رہا ہے، ایسا کوئی ٹیرف کا اضافہ یورپی یونین کے لئے ناقابل قبول ہے۔

 یورپی یونین نے آج واضھ کیا  کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکی محصولات میں اضافہ قبول نہیں، امریکا گزشتہ سال طے پانے والے معاہدے کی شرائط پر قائم رہے، معاہدہ، معاہدہ ہوتا ہے،امریکا عدالتی فیصلے کے بعد پالیسی واضح کرے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی مصنوعات پر کسی نئے ٹیرف کا  اطلاق نہیں ہونا چاہیے، غیر متوقع محصولات عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کرتے ہیں، غیر متوقع محصولات کاروباری اعتماد اوربین الاقوامی تجارت میں خلل ڈالتے ہیں۔

یہ بھی پڑھہیئے: ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے برے ریکارڈز کی فہرست میں بھارت کی ایک اور انٹری ، 5 میں سے 4 پوزیشنز پر قبضہ 

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گلوبل ٹیرف 10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ماضی میں کئی ممالک ٹیرف کے نام پر امریکا کو لوٹتے رہے ہیں،ٹیرف والے وہ ممالک ہیں جنہوں نے دہائیوں تک امریکا سے فائدہ اٹھایا،انتظامیہ جلد نئے اور قابل اجازت ٹیرف کا تعین کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز عدالتی فیصلہ مضحکہ خیز، ناقص اور ملک مخالف تھا،ٹیرف عائد کرنے کا مقصد امریکی معیشت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  سرحد پار دہشتگردی کیلئے برداشت کی آخری حدآگئی، دہشتگردی کے پلانردسترس سے باہر نہیں رہیں گے: صدرآصف زرداری 

یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی سپریم کورٹ ٹرمپ کا ٹیرف بڑھانے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا تھا ۔ امریکی سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہناتھا کہ صدرٹرمپ کے گلوبل ٹیرف غیر قانونی ہیں، صدرٹرمپ نے اختیارات سے تجاوز کیا،صدرٹرمپ کو وسیع سطح پر ٹیرف کے نفاذ کا اختیارنہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:   ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ؛انگلینڈ نے سری لنکا کی ہوم گراؤنڈ پر درگت بنا دی، میچ 51 رنز سے جیت لیا





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *