پاکستان میں مہنگائی کو اکثر ایک عمومی مسئلہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات تمام طبقات پر یکساں نہیں ہوتے۔ اگر تنخواہیں جوں کی توں رہیں اور قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں تو درحقیقت لوگوں کی حقیقی آمدن کم ہو جاتی ہے—اور اس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدن والے طبقے پر پڑتا ہے۔
خرم شہزاد جو ان ڈرائیو سے اپنے گھر کا روزگار چلاتے ہیں ان بڑھتی فیول کی قیمتوں کی وجہ سے اپنے گھر کا نظام کیسے چلائیں؟ ان کا کہنا ہے کہ فیول کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ان کو سواریاں بہت کم ملتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی آمدن بہت متاثر ہوئی۔ مہنگائی سب کو متاثر تو کرتی ہے لیکن سب پر ایک جیسا اثر کیوں نہیں ڈالتی؟
پاکستان ادارہ شماریات کی مارچ 2026 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح تقریباً 7.3 فیصد رہی۔اور یہ خوراک، بجلی اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اب بھی عام شہری کے لیے بڑا چیلنج ہے۔
ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ مسئلے کی جڑ صرف مہنگائی نہیں بلکہ آمدن اور قیمتوں کے درمیان بڑھتا ہوا عدم توازن ہے۔ ورکنگ کلاس اپنی آمدن کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ کرتی ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان کے بجٹ کو شدید متاثر کرتا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان میں اجرتوں میں اضافہ مہنگائی کی رفتار کے مطابق نہیں ہو رہا۔ کم از کم اجرت کا اعلان تو کیا جاتا ہے، لیکن اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو پاتا، جس سے آمدن اور اخراجات کے درمیان خلا مزید بڑھ جاتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی خدشات موجود ہیں۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ توانائی اور خوراک کی قیمتوں کے باعث مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
تاہم، حالیہ پالیسی فیصلے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 830 بلین کی بجلی سبسڈی دینے کی اجازت دی ہے، جس میں سے 300 بلین بجلی چوری کے نقصانات پورے کرنے کے لیے مختص ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ جنوری 2027 میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خرم شہزاد کہتے ہیں کہ سبسڈی اس سب کے بیچ کہاں گئی؟
ایک طرف سبسڈی دی جا رہی ہے اور دوسری طرف قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ بالآخر اس کا بوجھ عام صارفین، خصوصاً کم آمدن والے طبقے، پر ہی پڑتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں ایک اور بڑا مسئلہ بڑھتا ہوا سرکلر ڈیٹ ہے، جو بار بار ٹیرف میں اضافے کے باوجود کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ پالیسی ڈیزائن اور عملدرآمد کا بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس خلا کو کم کرنے کے لیے چند اقدامات ضروری ہیں، جن میں کم از کم اجرت پر مؤثر عملدرآمد، کم آمدن والے طبقے تک کامیابی سے منتقل ہو سکنے والی سبسڈیز اور توانائی کے نظام میں شفافیت۔
معاشیات کے عام اصول کے مطابق جب تک آمدن اور قیمتوں کے درمیان توازن پیدا نہیں ہوتا، تب تک خرم شہزاد جیسی ورکنگ کلاس کے لیے حالات بہتر ہونا مشکل ہے، اور وہ ترقی کے بجائے محض بقا کی جدوجہد تک محدود رہے گی۔
