Thu. Apr 9th, 2026

او۔پی نیئر ۔۔۔۔ اپنی طرز کا واحد موسیقار

2722308 RaeesFatimaNEW 1728586265


انسان اس جگہ کو کبھی نہیں بھولتا جہاں اس کا جنم ہوا ہو، یادوں کی قندیل میں انسان کو اپنا بچپن اور جوانی دونوں نظر آتے ہیں، وہ بچپن کی گلیاں وہ سکھیاں سہیلیاں وہ دوست کسی کو بھی انسان نہیں بھولتا، یادوں کی کہکشاں ہمیشہ دل میں ایک آگ کی طرح سلگتی رہتی ہے۔ پنچھی، ندیا اور پون کے جھونکے گاہے گاہے ان یادوں کو سامنے لاتے رہتے ہیں، بٹوارے نے ہزاروں دلوں کو شکستہ کیا چکنا چور کیا، اسی لیے دونوں طرف کے باسی اپنی اپنی یادوں میں اپنی مٹی کی مٹھاس کو محسوس کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

اسی لیے ادھر کے آئے ہوئے لوگ اپنی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرکے رو پڑتے ہیں، اور اِدھر سے گئے ہوئے لوگ اب بھی لاہور، کراچی اور دیگر شہروں کو یاد کرتے ہیں، بہت سارے بھارتی اداکار، موسیقار، ادیب اور شاعر جنھوں نے لاہور میں جنم لیا، وہ تقسیم کے سانحے کو نہیں بھولے، ان کی یادوں میں لاہور اسی طرح زندہ ہے جیسے اُدھر سے آئے ہوئے لوگوں کے دلوں میں، دلّی، لکھنو، حیدرآباد دکن، میرٹھ، جالندھر اور انبالہ ۔ ہم چاہ کر بھی ان یادوں کی چنگاریوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔

اومکار پرساد نیئر یعنی او۔پی نیئر نے بھی اسی لاہور میں 1926 میں جنم لیا۔ یہ ایسا موسیقار تھا جس نے ساری زندگی لتا سے کوئی گیت نہ گوایا۔ کہتے ہیں کہ لتا نے ایک گانے کی ریکارڈنگ چند دن آگے بڑھانے کی بات کی تھی۔ یہ بات او۔پی نیئر کو اپنی توہین محسوس ہوئی اور انھوں نے پھر کبھی لتا کو اپنی کسی فلم میں نہیں لیا۔ نیئر نے پڑھائی چھوڑ کر بہت چھوٹی عمر میں فلموں کے لیے گانا شروع کر دیا تھا۔ اسے بچپن ہی سے موسیقی سے دلی لگاؤ تھا، صرف بارہ برس کی عمر میں فلم ’’دلا بھٹی‘‘ میں گانے کا موقع ملا، پھر صرف پندرہ برس کی عمر میں آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اسٹیشن سے بھی اسے گانے کا موقع ملا۔ اسی دوران ایک فلم بنی ’’آسمان‘‘ جس میں سی۔ایچ آتما کے دو گانے تھے اور دونوں ہی ہٹ ہوئے۔

ان گیتوں کو سروں کی مالا میں پرویا تھا او۔پی نیئر نے۔ ایک گیت تھا، پریتم آن ملو، دکھیا جیا بلائے پریتم آن ملو۔ اور دوسرا گیت تھا، کچھ سمجھ نہیں آئے موہے اس دنیا کی بات۔ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود موسیقی کے شیدائیوں کو یہ گیت آج بھی یاد ہیں اور وہ انھیں سنتے بھی ہیں۔ لاہور نیئر کے لیے یوں بھی اہم تھا کہ اس نے پہلی بار محبت کا نشہ یہیں کیا تھا، سروج ایک اسٹیج ڈانسر تھی، یہیں سے دونوں کا رومانس شروع ہوا، جو شادی کے بندھن میں تبدیل ہو گیا۔ اسی دوران تقسیم کا دیو اپنا آہنی گرز لے کر آیا اور ایک ملک کے دو ٹکڑے کر دیے۔ او۔پی نیئر کا خاندان بھی لاہور سے ہجرت کرکے امرتسر آگیا، ہمیشہ کے لیے۔

نیئر بھی دوسرے مہاجرین کی طرح یہ سمجھتے تھے کہ ایک دن پھر وہ اپنی اپنی جنم بھومیوں میں واپس چلے جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہوا۔ یہ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں لوگ اپنے بسے بسائے گھروں کو چھوڑ کر ایک نئی سرزمین پر آگئے تھے، کبھی واپس نہ جانے کے لیے۔ انڈیا کے سفر کے دوران ہمیں کراچی سے حیدرآباد سے اور لاہور سے جا کر وہاں بسنے والے لوگ بہت ملے۔

دکاندار یہ سن کر کہ ہم کراچی سے آئے ہیں، ہمارے لیے اشیا کی قیمت خود بخود کم کر دیا کرتے تھے، عام لوگوں میں دونوں طرف محبت کے جذبات ہیں، لیکن مودی حکومت کے بعد وہاں صرف نفرت ہے، جب کہ ہمارے یہاں اب بھی نیک جذبات ہیں، اسی لیے گرونانک کے جنم دن پر سکھ یاتریوں کے ساتھ حکومت پنجاب کا رویہ بہت اچھا تھا۔ جب کہ بٹوارے میں سب سے زیادہ سکھوں نے تلواروں سے لوگوں کو لقمہ اجل بنا دیا تھا، میرے ماموں زاد بھائی محسن کو جو صرف چوبیس سال کے تھے سکھوں نے چاندنی چوک میں قتل کر دیا تھا۔میری سب سے بڑی بہن جن کی عمر اس وقت بہت کم تھی ان کی شادی کو بہت کم وقت ہوا تھا، انھیں پناہ گزینوں کے ساتھ ہمایوں کے مقبرے میں قید ہونا پڑا تھا۔

او۔پی نیئر نے تقدیر کا لکھا سمجھ کر بٹوارے کو قبول کر لیا تھا اور پوری تن دہی سے موسیقی میں مگن ہو گیا۔ اس کی پہلی فلم ’’کنیز‘‘ تھی جو 1949 میں ریلیز ہوئی۔ 1952 میں ’’چھم چھما چھم‘‘ تھی اور 1953 میں فلم ’’باز‘‘ ریلیز ہوئی لیکن وہ اب تک کوئی خاص کارنامہ انجام نہ دے سکا تھا۔ مایوسی اس کے وجود میں اترنے لگی تھی، اسے لگ رہا تھا وہ ناکام ہو چکا ہے۔ ایسی صورت میں گرودت نے اسے حوصلہ دیا اور اپنی مشہور فلم ’’آرپار‘‘ کا میوزک دینے کو کہا، گویا قسمت کی دیوی ’’آر پار‘‘ کی صورت میں اس پر مہربان ہونے کو تھی۔ ’’آر پار‘‘ 1954 میں ریلیز ہوئی اور اس کی دل فریب اور منفرد دھنوں نے گویا آگ لگا دی۔

اس فلم میں شمشاد بیگم اور گیتا دت نے گیت گائے تھے، سارے ہی گیت مقبول ہوئے۔ اس کے بعد فلم ’’CID‘‘ اور MR. & Mrs 55 آئیں اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑتی گئیں۔ او۔پی نیئر کو شمشاد کی آواز بہت پسند تھی، اس کے ساتھ ہی انھیں گیتادت اور محمد رفیع کی آواز بھی بہت پسند تھی۔ شمشاد کی آواز کے لیے انھوں نے کہا تھا کہ ’’شمشاد کی آواز میں بجتی گھنٹیاں مندروں کے اندر بجنے والی گھنٹیوں کی آواز جیسی ہیں۔‘‘

دن دونی اور رات چو گنی کامیابیوں کے ساتھ نیئر کی زندگی میں ایک بھونچال کی ابتدا ہو گئی، انھیں شمشاد اور گیتادت کے بجائے صرف آشا بھونسلے کی آواز اس قدر بھائی کہ وہ اس کے سحر میں ڈوب گئے اور ہر فلم میں آشا کو گوانے لگے۔ سروج کا عشق کہیں کھو گیا، چاروں بچوں کی محبت بھی دم توڑ گئی اور وہ آشا کے عشق میں ڈوب گئے۔ ڈھلتی عمر کی آشا نے اسے گولڈن چانس سمجھا اور چودہ سال تک او۔پی نیئر کے ساتھ رہیں۔

ایک سے ایک ہٹ گانے دیتی رہیں۔ پھر دور آیا، راک میوزک کا۔ آر ڈی برمن، بپی لہری اور پریتم کا دور۔ او۔پی نیئر کو کام ملنا کم ہو گیا، آشا نے اپنا رخ اپنے سے کئی چھوٹے آرڈی برمن کی طرف موڑ دیا، اور پھر 1972 میں آشا نے برملا اعلان کر دیا کہ اب وہ او۔پی نیئر کے لیے کوئی گانا نہیں گائیں گی۔ نیئر اندر سے بالکل ٹوٹ گئے، وہ ایک اپارٹمنٹ بیچنا چاہتے تھے، اسے ان کی فیملی نے ناکام بنا دیا، او۔پی نے جس پرخار راستے پر قدم رکھا تھا، اس کے دامن میں کانٹے تو الجھنا ہی تھے۔ گھر والوں سے قطع تعلق کر لیا،اور شاردا بلڈنگ کے ایک اپارٹمنٹ میں پناہ ڈھونڈی۔ ایک لڑکی نے انھیں منہ بولا پتا بنا لیا، وہ آخر تک اسی منہ بولی بیٹی کے ساتھ رہے اور وصیت کر دی کہ موت کے بعد ان کی فیملی میں سے کوئی ان کے جسم کو ہاتھ نہ لگائے۔ انھوں نے اپنے تمام گانوں کی رائلٹی اپنی منہ بولی بیٹی کے نام کر دی، جس نے سگی بیٹی کی طرح آخر تک ان کا خیال رکھا۔

1975 میں ایک فلم بنی ’’پران جائے پروچن نہ جائے‘‘ اس کا میوزک او۔پی نیئر ہی نے دیا تھا۔ اس فلم میں آشا کو بہترین گائیکہ کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ لیکن آشا وہاں موجود نہیں تھیں، لہٰذا یہ ایوارڈ او۔پی نیئر کو دیا گیا۔ وہ ایوارڈ لے کر اپنے دوست ایچ ایس بہاری کے ساتھ نکلے، راستے میں ایک لیمپ پوست کے پاس گاڑی رکوا کر انھوں نے شیشہ کھولا اور پوری قوت کے ساتھ اس ٹرافی کو لیمپ پوسٹ کے کھمبے پر دے مارا۔ ٹرافی چکنا چور ہو گئی۔ او۔پی نیئر نے اپنے دوست سے کہا ’’اس نے میرا دل بھی اسی طرح توڑا ہے۔‘‘آشا صرف شہرت کی بھوکی تھی اور اسی لیے وہ لمبے عرصے تک او۔پی کے ساتھ رہی لیکن جیسے ہی ان کی شہرت کا ستارہ مدھم ہو گیا وہ ایک اور چمکتے ستارے کے دامن سے لپٹ گئی اور بعد میں اسی سے شادی کر لی۔

او۔پی نیئر اپنے جذبوں میں سچے تھے لیکن فیملی کو چھوڑ کر کسی اور کے دامن میں پناہ لینا ان کے لیے بھاری پڑ گیا، گھر والوں کا رویہ ان کے ساتھ بہت خراب ہو گیا، انھوں نے کورٹ کچہری میں جا کر تمام جائیداد ہتھیا لی۔ یہ ان کا بہت بڑا دکھ تھا، وہ کہتے تھے کہ مرنے کے بعد سب کچھ انھی کا تو ہونا تھا، انھوں نے ایسا کیوں کیا، لیکن عشق اپنا خراج مانگتا ہے۔ آشا نے بڑی ہوشیاری سے انھیں بے وقوف بنایا اور پھر دولت اور شہرت سمیٹ کر ان سے الگ ہو گئی۔ نیئر نے ایسے ایسے لاجواب گیت تخلیق کیے جو آج بھی شائقین میں مقبول ہیں اور سب سے زیادہ ری مکس ان کے گانوں کے بنے۔ آخر اپنی منہ بولی بیٹی کے گھر ہی ان کا انتقال ہوا جس کے گھر میں وہ بارہ سال تک پیئنگ گیسٹ کے طور پر رہے۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *