ایران کی سرکردہ قیادت بھی مکمل محفوظ ۔ ہم نے مسلم ممالک نہیں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔ وزیر خارجہ ایران
تہران 28 فروری ( سیاست نیوز) وزیر خارجہ ایران آغا عباس اراگچی نے اسرائیل کے خامنہ ای کی موت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر اسلامی جمہوریہ ٔ ایران محفوظ ہیں اور ایران کی سرکردہ لیڈرشپ بھی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے منصوبہ کو ’ناممکن مشن‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل ۔امریکہ کے مشترکہ حملوں میں ایران کے بعض کمانڈر جاںبحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کو اپنی تاریخی ذمہ داری نبھانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ ۔ اسرائیل کی جارحانہ کاروائیوں کے خلاف اپنا متحدہ موقف پیش کریں۔عباس اراگچی نے مسلم ممالک کے ذمہ داروں کو یاددلایا کہ وہ اسرائیل وامریکہ کے خلاف ایرانی کاروائیوں میں ایران کا ساتھ دیں اور گنہگار ممالک کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا رول ادا کریں۔ وزیر خارجہ ایران نے ایران پر کئے گئے حملوں کو اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کاروائیاں عالمی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور ایران اپنے دفاع کیلئے مسلم ممالک کو نہیں بلکہ امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے خطہ میں موجود تمام ممالک کے سربراہان کو مشورہ دیا کہ وہ خطہ کے تحفظ اور سالمیت کیلئے اسرائیلی و امریکی کاروائیوں کی شدید سے مخالفت کرتے ہوئے ایران کے حق دفاع کی تائید کریں ۔ عباس اراگچی نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنے دفاع میں جو بھی کاروائیاں انجام دے گا وہ تمام عالمی جنگی قوانین کے دائرہ میں ہوں گی اور وہ صرف اسرائیلی و امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنائیگا۔ انہوں نے کہا کہ تہران عالمی امن کا خواہاں ہے اور اسی لئے جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران ایران نے یورانیم افسودگی پر کنٹرول کیلئے آمادگی ظاہر کی تھی لیکن مغربی ممالک ایران میں اقتدار کی تبدیلی کی خواہش کے ساتھ ایران کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ عباس اراگچی نے اس بات کی توثیق کی کہ ایران کے پاس امریکہ کو نشانہ بنانے کی اہلیت رکھنے والے میزائل نہیں ہیں بلکہ ان کے پاس جو میزائل ہیں وہ دفاعی نوعیت کے ہیں جو کہ 2000 کیلو میٹر تک حملہ کرسکتے ہیں۔وزیر خارجہ ایران نے امریکی و اسرائیلی کاروائیوں کو ایران کے خلاف جارحیت قرار دیا اور کہا کہ جو حملے کئے گئے وہ عالمی جنگی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔3
