
(24 نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کے مثبت اثرات عالمی سطح پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ شدید تناؤ کے بعد خطے کی دو بڑی طاقتوں، سعودی عرب اور ایران کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہوا ہے، جسے کشیدگی میں کمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کو ٹیلی فون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی: فضائی حدود بحال ہوتے ہی عراق کا فلائٹ آپریشن بھی فعال
گفتگو کے دوران باہمی تعلقات کے فروغ اور علاقائی استحکام کے لیے مسلسل مشاورت اور رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے حالیہ گھنٹوں میں کسی بھی قسم کے فضائی خطرات کی تردید کر دی ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق اماراتی فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے کسی بھی میزائل یا ڈرون حملے کا کوئی ثبوت نہیں پایا، اور ملک کی فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری امن مذاکرات اور پاکستان کی سفارتی میزبانی نے خطے میں “جنگ بندی” اور “اعتماد کی بحالی” کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے.
