Sun. Apr 5th, 2026

ایران جنگ: چین اور پاکستان کی مشترکہ سفارتی کوششیں جاری – Siasat Daily

Flash


بیجنگ ؍ اسلام آباد ۔ 4 اپریل (ایجنسیز) چین نے ایران جنگ کے تناظر میں خطہ میں اپنی سفارتی سرگرمیاں غیر معمولی حد تک تیز کر دی ہیں۔ پاکستان کے ساتھ مشترکہ مشاورت، خلیجی ممالک سے رابطہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے حوالے سے بیجنگ عالمی سیاست میں نمایاں کردار کے لئے چین نے ایران جنگ کے خاتمہ کے حوالے سے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بیجنگ نے پاکستان کے ساتھ تنازعہ کے حل کے لیے پانچ نکاتی تجویز پیش کی ہے جس میں اسے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ چین کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے طاقت کے استعمال کی اقوام متحدہ کی تجویز کی بھی مخالفت کی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکہ بیجنگ کی ان حالیہ کوششوں میں عدم دلچسپی ظاہر کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سٹیمسن سینٹر میں چائنا پروگرام کے ڈائریکٹر سن یون کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کا معاملہ اس وقت خطہ اور اس سے باہر بھی تمام ممالک کی اولین ترجیح ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ چین اپنی قیادت اور سفارتی اقدام کا مظاہرہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایک سابق سینئر امریکی اہلکار ڈینی رسل نے چین کی سفارت کاری کی اس تازہ ترین کوشش کو 2023 میں بیجنگ کی جانب سے روس یوکرین جنگ کے خاتمہ کے لیے پیش کیے گئے 12 نکاتی حل کی تجویز سے تشبیہ دی جو ان کے مطابق صرف لفاظی پر مبنی تھے اور جن پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ رسل نے کہا کہ چین کا بیانیہ یہ ہے کہ جہاں واشنگٹن لاپرواہ ہو اور جارحانہ انداز اپنائے وہاں چین امن کا پاسدار ثابت ہو۔ ہم چین کی جانب سے جو اقدامات دیکھ رہے ہیں وہ پیغام رسانی ہے، ثالثی نہیں۔ تاہم واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو کا ماننا ہے کہ چین جنگ شروع ہونے کے بعد سے امن قائم کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ میں چین کی ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے گرم جوشی نہ ہونے کے برابر ہے۔ امریکہ کو اس وقت چین کے بین الاقوامی اثر رسوخ کو بڑھانے یا مشرق وسطیٰ میں بیجنگ کی کامیاب ثالث بننے کا موقع فراہم کرنے میں بہت کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تین امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاک چین مشترکہ ثالثی کی کوششوں کو فی الحال نظر انداز کر رہے ہیں لیکن تینوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صدر ڈونالڈ ٹرمپ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنی طے شدہ سربراہی ملاقات سے پہلے ان کوششوں پر غور کریں تو معاملات مختلف سمت اختیار کر سکتے ہیں۔
ثالثی کی یہ تیز ہوتی کوششیں، بیجنگ کے لیے، مئی کے وسط میں ٹرمپ کے طے شدہ دورہ چین سے پہلے جنگ میں کمی دیکھنے کی ایک وجہ ہو سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے مارچ کے آخر میں طے شدہ اپنا چین کا دورہ ملتوی کر دیا تھا۔ سن یون کے مطابق اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو ٹرمپ دوبارہ چین کا اپنا دورہ موخر نہیں کریں گے۔ جنگ کی شدت میں رواں ہفتہ بھی اس وقت شدت دیکھنے میں آئی جب ایران نے دو امریکی فوجی طیاروں کو مار گرایا۔ ٹرمپ نے خبر رساں ادارے این بی سی نیوز کو بتایا کہ اس سے ایران کے ساتھ مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، یہ سب امریکی صدر نے ایک قومی خطاب میں یہ اعلان کرنے کے چند دن بعد کہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایران کو شکست دے دی ہے اور مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *