
(ویب ڈیسک) ایران نے اسرائیل میں تل ابیب کے بین گوریون ہوائی اڈے پر 1 ٹن وار ہیڈز کے ساتھ میزائل فائر کرنے کا انکشاف کیا ہے۔
اسرائیل کے وسطی علاقہ کو نشانہ بنانے کے لئے آج جمعرات کی شام تک پانچ ایرانی میزائل بیراج بھیجے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام بتا رہے ہیں کہ آج شام ہونے والے تازہ ترین میزائلوں کے حملے سے بھی کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے آج صبح بتایا کہ تل ابیب کے بین گوریون ہوائی اڈے پر 1 ٹن بارودی مواد والے وار ہیڈز کے ساتھ بیلسٹک میزائل خرم شہر 4 فائر کئے گئے۔
ایک بیان میں، IRGC کا کہنا ہے کہ صبح کے وقت، اس نے “تل ابیب کے مرکز، بن گوریون ہوائی اڈے اور اس ہوائی اڈے پر ہی واقع اسرائیلی فضائیہ کے 27ویں سکواڈرن بیس” پر خرمشہر-4 میزائل فائر کئے۔
IRGC launched a Khorramshahr-4 missile with a 1-ton warhead toward Israel earlier today at dawn, claiming it penetrated 7 layers of air defense. pic.twitter.com/C4s0THqwcn
— Current Report (@Currentreport1) March 5, 2026
اس اعلان کے بعد اسرائیل کے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ میں کوئی “27 واں سکواڈرن” نہیں ہے، اور پاسداران کا دعویٰ ممکنہ طور پر “ایئربیس 27″، یا “لود ایئربیس” کا حوالہ دے رہا ہے، لود ائیربیس 2010 میں بند کر دیا گیا تھا اور لد ائیربیس بند ہونے سے پہلے بین گوریون ایئرپورٹ کا حصہ تھا۔ اب اس جگہ پر صرف بن گوریون انٹرنیشل ائیرپورٹ ہے۔
IDF کے مطابق، اسرائیل پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات فائر کئے گئے ایران کے تمام بیلسٹک میزائلوں کو اسرائیل کے فضائی ڈیفینس سسٹم نے روک دیا تھا۔ صبح فائر کئے گئے ایک میزائل نے وسطی اسرائیل میں ایک قصبے کے ایک کھلے علاقے کو نشانہ بنایا۔
ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آج ایران کے “آپریشن وعدہ صادق 4 “میں اسرائیل کے خلاف خرمشہر 4 اسٹریٹجک بیلسٹک میزائل فائر کئےگئے۔
ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی ایرو سپیس فورس کی جانب سے آج لانچ کئےگئے میزائلوں نے تل ابیب کے مرکز، بن گوریون ایئرپورٹ اور اسرائیلی فضائیہ کے 27ویں سکواڈرن کے اڈے کو نشانہ بنایا۔
خرمشہر 4 میزائل تقریباً 13 میٹر لمبا اور تقریباً 30 ٹن وزنی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ دیو ہیکل میزائل ایک ٹن سے زائد دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس میزائل کی زیادہ سے زیادہ رفتار، آواز کی رفتار سے 16 گنا زیادہ تک ہوسکتی ہے۔ اس انتہائی تیز رفتار کے باعث یہ دیو ہیکل میزائل کے فائر کئے جانے کے بعد اسرائیل میں اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کا وقت تقریباً 10 سے 12 منٹ صرف کرتا ہے جو کئی میزائل دفاعی نظاموں کے لیے مؤثر ردعمل دینا مشکل بنا دیتا ہے۔
خرمشہر 4 میزائل کا وارہیڈ ایران کے میزائل ذخیرے میں شامل جدید ترین منیوورایبل وارہیڈز (MaRV) میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں سے کیا نقصان ہوا
اب تک یہ واضح نہیں کہ خرمشہر 4 میزائلوں اور ایران ےس فائر کئے گئے دوسرے میزائلوں نے آج اسرائیل میں کیا نقصانات کئے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق آج نصف شب سے لے کر جمعرات کی شام تک اسرائیل پر ایران سے پانچ مرتبہ میزائل فائر کئے گئے۔
ان میزائل حملوں سے بچنے کے لئے وسطیٰ اسرائیل مین ہر بار کئی ملین افراد کو زیر زمین بنکر پناہ گاہوں میں جانا پڑا۔
اسرائیلی حکام نے تھوڑی دیر پہلے بتایا کہ آج شام فائر کئے گئے ایرانی میزائلوں سے بھی کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ
5ویں ایرانی میزائل کے بعد آدھی رات کے بعد سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
ٹی او اے کے رپورٹر ایمانوئل فیبین نے کچھ دیر پہلے رپورٹ کیا کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وسطی اسرائیل پر تازہ ترین ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے حملےکے بعد زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ابتدائی فوجی اندازوں کے مطابق، آج شام ہونے والے دن بھر کے پانچویں حملے میں بہت کم میزائل داغے گئے۔ رہائشی علاقوں میں اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
حملے کے دوران تل ابیب، یروشلم اور وسطی اسرائیل میں سائرن بج گئے تھے، جو کہ آدھی رات سے ایران کی طرف سے پانچواں حملہ تھا، جس نے لاکھوں افراد کو پناہ گاہوں میں بھیجا۔
آئی ڈی ایف ہوم فرنٹ کمانڈ کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں سائرن بجتے ہیں وہاں کے شہری اب بم پناہ گاہوں سے نکل سکتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں ان کے قریب رہنا چاہیے۔
