تہران، 20 مارچ (یو این آئی) ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آپریشن کا نام “یا اباعبداللہ الحسین” رکھا گیا جس میں اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں حیفا اور اشدود کی آئل ریفائنریز پر میزائل حملے کیے گئے جب کہ سیکیورٹی مراکز اور فوجی سپورٹ تنصیبات بھی نشانے پر ہیں۔ پہلی بار جدید “نصراللہ سسٹم” اپ گریڈ میزائل استعمال کیے اور تمام میزائل انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے اہداف تک پہنچے ۔ قیام، ذوالفقار اور خیبرشکن میزائل بھی آپریشن میں استعمال کیے گئے ۔ پاسداران انقلاب نے الخرج بیس پر امریکی اڈے کو بھی نشانہ بننے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ایف35، ایف 16 اور ایواکس سپورٹ بیس طیاروں کو نشانہ بنایا گیا، شیخ عیسیٰ اورالظفرہ بیسزپربھی میزائل حملے کیے گئے ۔ یہ کارروائی ایرانی فوج کے شہدا کی یاد میں کی گئی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکی جنگی طیارے ایف 35 کو ایرانی حملے میں نقصان پہنچا اور اس نے مشرق وسطیٰ میں فوجی اڈے پر ایمرجنسی لینڈنگ کی ہے ۔ اس معاملے سے واقف دو ذرائع نے سی سی این کو بتایا کہ ایک امریکی F-35لڑاکا طیارے نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی جب اسے ایرانی فائر کا نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ ففتھ جنریشن کے اسٹیلتھ جیٹ “ایران کے اوپر جنگی مشن پر پرواز کر رہا تھا” جب اسے ہنگامی لینڈنگ کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ہاکنز نے کہا کہ طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
ایران کی میزائل صلاحیتیں ختم ، نیتن یاہو کا دعویٰ
تل ابیب، 20 مارچ (یو این آئی) اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 20 دنوں سے جاری امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد اب ایران کے پاس یورینیم افزودہ کرنے یا بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت باقی نہیں رہیں۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے سخت موقف اختیار کیا کہ ہم ایران کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کر رہے ہیں اور انہیں خاک میں ملا دیں گے۔
ان کے مطابق ایران کا میزائل اور ڈرون پروگرام بڑے پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے ۔ اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایران اب یورینیم افزودہ کرنے کے قابل نہیں رہا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے ۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس میں “گراؤنڈ کمپوننٹ” (زمینی فوج) کا شامل ہونا بھی ضروری ہے اور اس کیلئے کئی امکانات پر غور کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ اسرائیل نے اکیلے کیا، امریکی صدر کی درخواست پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے امریکہ کو جنگ میں دھکیلنے کی کوشش نہیں کی، صدر ٹرمپ نے ایک سال قبل کہا تھا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ واضح رہے کہ پاسداران انقلاب نے نیتن یاہو کے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ جن میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتیں ختم کر دی ہیں۔
