Sun. Mar 29th, 2026

ایران کے خلاف امریکی فوجی آپریشن بہت اچھا جا رہا ہے : ٹرمپ – Siasat Daily

trmup


نئی دہلی ، 28 مارچ (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن بہت اچھاجا رہا ہے ، جبکہ ایران نے اسرائیل اور خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب میں ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغے ، جس میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ۔ٹرمپ نے مزید تفصیل بتائے بغیر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہاکہ ایران میں ہمارا فوجی آپریشن بہت اچھا جا رہا ہے ،ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ، جس میں 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے ، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے ۔نیویارک ٹائمز نے کہا کہ مشترکہ میزائل اور ڈرون حملے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی فضائی دفاع کی سب سے سنگین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہیں۔زخمی افراد حملے کے دوران ایک عمارت کے اندر موجود تھے ، جس میں کم از کم ایک بیلسٹک میزائل اور کئی ڈرونز شامل تھے ، جس سے امریکی فوجی ایندھن بھرنے والے طیاروں کو بھی نقصان پہنچا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ توقع کرتا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔
روبیو، جو فرانس میں جی-7 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے ، نے ایران کے خلاف جی-7 کی حمایت حاصل کرتے ہوئے کہا کہ (ایران کے خلاف) ہدف کو ”شراکت داروں کے زیادہ سے زیادہ تعاون” کے ساتھ پورا کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس آپریشن میں وقت پر یا وقت سے پہلے ہے ، اور مناسب وقت پر اسے ختم کرنے کی توقع رکھتا ہے -”جو مہینوں کا نہیں بلکہ ہفتوں کا معاملہ ہے ”۔روبیو نے ایکس پر کہا، ”ہمارا مشن واضح ہے ۔ جی-7 کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اپنی ملاقات میں، میں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمیں اس لمحے کا مقابلہ شراکت داروں کے زیادہ سے زیادہ تعاون کے ساتھ کرنا ہو گا”۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ زمینی فوج کے بغیر اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے ۔ تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع کی خاطر کچھ زمینی دستے تعینات کر رہا ہے ۔ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی نے ہفتے کے روز بتایا کہ ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے جمعہ کی دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ ”آپریشن ٹرو پرامز 4 کی 84 ویں لہر کے کڑی میں، آئی آر جی سی نیوی نے الشویخ کی بندرگاہ اور دبئی کے ساحلوں اور بندرگاہ پر امریکی-اسرائیلی فوجیوں کے خلاف درست اور متعدد حملے کیے ، جس میں امریکی فوجیوں اور ان کے جنگی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا”۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اس آپریشن میں، جو بیلسٹک میزائلوں اور قدر 380 کروز میزائلوں کے ذریعے کیا گیا، الشویخ کی بندرگاہ میں 6 امریکی لینڈنگ کرافٹ یوٹیلیٹی (ایل سی یو) کو نشانہ بنایا گیا”۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں سے تین جنگی بحری جہاز نشانہ بننے کے بعد ڈوب گئے اور باقی جل رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسی وقت دبئی کے ساحل پر امریکی ڈرون یونٹ کے مراکز اور ایک ہوٹل کے خلاف خودکش ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے کارروائی کی گئی اور ان مراکز کو درست طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔آئی آر جی سی کے بیان میں مزید کہا گیا، ”اس آپریشن کے دوران، جنگی جہازوں کے ڈوبنے کے علاوہ، بڑی تعداد میں امریکی فوجی بھی مارے گئے ”۔

مجھے کامیاب لوگ پسند نہیں، ہارنے والوں کیساتھ رہنا اچھا لگتا ہے: ٹرمپ
میامی ۔ 28 مارچ (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے میامی میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو سے خطاب کے بعد سوال و جواب کے سیشن میں ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے کامیاب لوگوں کے بجائے ناکام لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔تقریب کے دوران اُنہوں نے حاضرین کو کھلے سوالات کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی موضوع پر بات کی جا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران کہا کہ میں اکثر ہارے ہوئے ناکام افراد کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں کیونکہ اس سے مجھے بہتر محسوس ہوتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ مجھے بہت کامیاب افراد کی کامیابی کی کہانیاں سننا پسند نہیں، میں ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو میری کامیابی کی کہانیاں سنیں۔ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ عالمی قیادت میں سب سے اہم عنصر ’جیتنا‘ ہے اور کھیلوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کامیابی اور ناکامی فوری طور پر واضح ہو جاتی ہے۔بعد ازاں اُنہوں نے اپنے بیان پر کہا کہ میں مذاق کر رہا تھا، تاہم ساتھ ہی کہا کہ میں کچھ حد تک سنجیدہ بھی تھا۔تقریب میں ٹرمپ نے ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کا بھی ذکر کیا جنہیں 2020ء میں امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا تھا، ٹرمپ نے انہیں ’عظیم لیڈر‘ اور ’پاگل ذہین‘ شخص قرار دیا۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *