
(سلیم رضا) بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم طارق رحمان عام انتخابات مین شکست کھانے والی پارٹی جماعت اسلامی کے رہنما سے ملنے کے لئے خود ان کے گھر چلے گئے۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کی جماعت اسلامی کے رہنما کی رہائش گاہ پر آمد کی خبروں کے ساتھ یہ بات سامنے آئی کہ وہ بنگلہ دیش کے نئے انتخابات کے بعد بننے والی حکومت مین اپوزیشن کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات مین بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کو پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لئے کافی تعداد مین نشستین مل چکی ہین اور طارق رحمان حکومت بنانے کے لئے کسی دوسری پارٹی کی مدد کے محتاج نہیں ہیں۔
ہ بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات کے لیے ڈھاکہ میں بسوندھرا میں ان کی رہائش گاہ پر گئے تو اس علاقہ میں سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے۔ جماعت اسلامی کے رہنما کے گھر کے باہر ان کے کارکن بھی کثیر تعداد میں موجود رہے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے کارکن بھی وہاں جمع ہو گئے۔
طارق رحمان اتوار کی رات مقامی وقت کے مطابق 8 بجکر 12 منٹ پر امیر ڈھاکہ کے دفتر بسوندھرا پہنچے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مناسب نفری بھی علاقہ میں تعینات کی گئی تھی۔
طارق رحمان کے ساتھ بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور قائمہ کمیٹی کے رکن نذر اسلام خان بھی موجود تھے۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر سید عبداللہ محمد طاہر اور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور مرکزی شعبہ نشر و اشاعت کے سربراہ ایڈووکیٹ احسان المحبوب زبیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔
ملاقات انتہائی خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی۔ دونوں نے ایک ساتھ کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
