
(ویب ڈیسک)بھارت کی ریاست گجرات میں چھوٹا ادے پور ضلع کے ایک گھر میں تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد انچارج سرپنچ کو معطل کردیا گیا۔ مقامی ترقیاتی افسر نے سرپنچ کو معطل کرنے کا اقدام شکایت ملنے پر اٹھایا ۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق گجرات کے ضلع چھوٹا ادے پور میں سنکھیڈا تعلقہ کے کویتھا گرام پنچایت کے انچارج سرپنچ، مہندر بھائی واساوا کو تیسرے بچے کی پیدائش کے باعث گجرات پنچایت ایکٹ کی ‘خلاف ورزی’ پر معطل کر دیا گیا۔گاؤں کے مہیش جیسنگ بھائی رباری نے سنکھیڈا تعلقہ ترقیاتی افسر (ٹی ڈی او) کے پاس شکایت درج کی، اس کے بعد ٹی ڈی او نے تحقیقات شروع کیں اور یہ تصدیق ہونے پر کہ سرپنچ کا تیسرا بچہ 10 اگست کو پیدا ہوا، واساوا کو گجرات پنچایت ایکٹ کے سیکشن 30 کے تحت معطل کر دیا گیا۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ گجرات پنچایت ایکٹ کے سیکشن 30 (M) کے مطابق، دو سے زیادہ بچے رکھنے والا شخص پنچایت ممبر کا عہدہ نہیں رکھ سکتا اور اسے نااہل قرار دینے کا اصول ہے۔یہ کویتھا گرام پنچایت کا پہلا تنازعہ نہیں ہے، اس پنچایت کے پچھلے سرپنچ کو پہلے بھی جھوٹے دعوؤں کی بنا پر معطل کیا گیا تھا۔سنکھیڈا ٹی ڈی او جگر پرجاپتی نے کہا کہ کویتھا گاؤں کے نائب سرپنچ، سرپنچ کے فرائض انجام دے رہے تھے، ان کا تیسرا بچہ 10 اگست کو پیدا ہوا، ہمیں گاؤں والوں کی طرف سے درخواست موصول ہوئی اور ہم نے تینوں بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹس حاصل کیے اور قواعد کے مطابق انہیں عہدے سے نااہل کرنے کا عمل شروع کر دیا ۔
یہ بھی پڑھیں:گلوکارہ ظل ہما احمد کے ہاں’’ ننھی شہزادی‘‘ کی آمد ۔۔مبارکبادیں آنی لگیں
