
(24 نیوز)سورج پر شدید سرگرمی کے ایک نئے سلسلے کے باعث بھارت کو طاقتور ریڈیو بلیک آؤٹ کے خطرے کا سامنا ہے،بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور شمسی شعلوں کے نتیجے میں مواصلاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے جس کے پیشِ نظر تمام سیٹلائٹس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔
اسرو کے مطابق سورج سے اٹھنے والے شدید شمسی طوفان زمین کی سمت آنے کی صورت میں سیٹلائٹس، ٹی وی سگنلز، ریڈار سسٹمز اور بجلی کے گرڈ کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بھارت کے 50 سے زائد فعال سیٹلائٹس کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی شمسی سرگرمی مواصلات، نیویگیشن اور سیٹلائٹ آلات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسرو کے ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک کے ڈائریکٹر انیل کمار نے بتایا کہ ریڈیو بلیک آؤٹ کے امکانات واضح ہیں اور کسی بھی ممکنہ مواصلاتی خلل سے فوری طور پر نمٹا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ تمام گراؤنڈ سٹیشنز کو الرٹ کر دیا گیا ہے اور ہنگامی منصوبے پہلے ہی فعال ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال سورج پر موجود ایک انتہائی متحرک مقناطیسی خطے ایکٹو ریجن 14366 کے باعث پیدا ہوئی جہاں چند دنوں کے دوران 4 انتہائی طاقتور شمسی شعلے خارج ہوئے جن میں X8.1 درجے کا شعلہ 2026 کا اب تک کا سب سے طاقتور شعلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ناسا کے مطابق یہ شعلے یکم اور 2 فروری کے درمیان اپنے عروج پر پہنچے اور اکتوبر 2024 کے بعد سب سے روشن شمسی شعلہ ریکارڈ کیا گیا،شمسی سائنس دان پروفیسر دیبیندو نندی کے مطابق سورج کا یہ رویہ غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ مذکورہ مقناطیسی خطہ غیر معمولی طور پر سرگرم ہے اور مسلسل شمسی طوفان خارج کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی سائنس دانوں نے پہلے ہی صورتحال کا اندازہ لگا کر اسپیس ویڈر الرٹس جاری کر دیے تھے، ماہرین نے واضح کیا ہے کہ تاحال زمین کو براہ راست نشانہ بنانے والا کوئی انتہائی طاقتور شمسی پلازما بادل سامنے نہیں آیا تاہم چونکہ متحرک خطہ سورج اور زمین کے درمیان لائن کے قریب ہے اس لیے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس صورتحال میں بھارت کا پہلا شمسی مشن ادتیہ ایل-ون کلیدی کردار ادا کر رہا ہے جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ایل-ون لاگرانج پوائنٹ پر موجود ہے۔ یہ مشن سورج کی سرگرمیوں پر حقیقی وقت میں نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے ڈیٹا کی مدد سے بروقت وارننگز جاری کی جا رہی ہیں۔
بھارتی سائنس دانوں کے مطابق اگرچہ اس وقت کسی بڑے تباہ کن نقصان کا خطرہ نہیں تاہم سورج کی مسلسل غیر یقینی سرگرمی کے باعث بھارت سمیت دنیا بھر میں ہائی الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سانحہ گل پلازا، جسٹس آغا فیصل جوڈیشل کمیشن کے جج نامزد
