گرام پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں کامیابی واضح اشارہ ، تربیتی اجلاس سے خطاب
حیدرآباد 21 فروری ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ سنگھٹن سریجن ایک تاریخی اور فیصلہ کن پروگرام ہے جو معیاری قیادت کی تیاری اور ادارہ جاتی تبدیلی کیلئے نہایت مفید ثابت ہوگا ۔ ضلع وقار آباد میں اضلاع صدور کے تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ پارٹی کا نظریہ ہی اس کی اصل روح ہے اور یہ تربیتی پروگرام مثبت تبدیلی لانے میں اہم رول ادا کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کانگریس صدور کا عمل صرف آغاز ہے اور پارٹی کو بوتھ سطح تک مضبوط کرنا اولین ترجیح ہے ۔ صدر پردیش کانگریس نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ اے آئی سی سی پالیسیوں کے مطابق کام کریں اور سوشیل میڈیا مہم پر خصوصی توجہ دیں ۔ ساتھ ہی احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جائے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سنگھٹن سریجن پروگرام 14 ریاستوں میں کامیابی سے منعقد کیا گیا اور تلنگانہ میں بھی اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ ریاست میں کانگریس نے عوام کا اعتماد حاصل کرکے حکومت تشکیل دی ہے ۔ چھ ضمانتوں کی اکثریت پر عمل کیا جاچکا ہے ۔ کے سی آر کے دور حکومت میں ریاست کو مالی مشکلات کا سامنا تھا ۔ ان مسائل کو عبور کرکے کانگریس حکومت عوام سے وعدوں کو پورا کرنے کے ساتھ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کررہی ہے ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی ضمانت نہیں بچی ملا اور بلدیاتی انتخابات میں 90 فیصد جب کہ گرام پنچایت انتخابات میں کانگریس 75 فیصد سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی اقتدار سے محروم ہوجائے گی اور راہول گاندھی وزیراعظم بنیں گے ۔ وزیراعظم مودی ذات پات اور مذہب کی سیاست کرکے عوام میں دوریاں پیدا کررہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ این ایس یو آئی سے تلنگانہ کانگریس صدر کے عہدے تک پہونچنا صرف کانگریس میں ممکن ہے جو پارٹی کی اندرونی جمہوریت اور قیادت کو فروغ دینے کی علامت ہے ۔۔ 2
