Sat. Mar 7th, 2026

حملوں سے ایران میں ریجیم چینج مکمن نہیں 18امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ

news 1772910451 2470



news 1772910451 2470

(ویب ڈیسک) آج امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی یہ رپورٹ وائرل ہو رہی ہے کہ حملوں سے ایران میں ریجیم چینج ممکن نہیں ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ  18امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی معلومات کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ  “بڑے پیمانے پر حملوں” سے بھی ایران کی موجودہ  حکومت کو ہٹانا ممکن نہیں ہے۔

 واشنگٹن پوسٹ نے اس رپورٹ پر اپنی رپورٹ شائع کی ہے۔ اخبار نے لکھا کہ ایک خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہےکہ بڑے پیمانے پر فوجی حملہ بھی ایران کی موجودہ حکومتی اور فوجی قیادت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ رپورٹ نیشنل انٹیلیجنس کونسل کے سینئر تجزیہ کاروں نے مرتب کی ہے، جو امریکہ کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مشترکہ معلومات کی بنیاد پر خفیہ رپورٹیں تیار کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملے شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل مکمل کی گئی تھی۔

یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف  ایک طویل فوجی مہم کی دھمکی دی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہےکہ ابھی تو شروعات ہے۔

 اپوزیشن کے ملک کی حکومت پر کنٹرول حاصل کرنے کا امکان نہیں
رپورٹ میں بتایا گیا  تھا  کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کیا گیا تو ایران کی مذہبی اور فوجی قیادت پہلے سے طے شدہ پروٹوکول کے مطابق جواب دےگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی اپوزیشن کے ملک  کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں امریکہ کی افواج کے ایران میں داخلے یا کرد علاقوں میں بغاوت شروع کروانے جیسے متبادل راستے زیر غور نہیں لائے گئے، صرف ایک سوال پر فوکس کیا گیا۔واشنگٹن پوسٹ نے اس رپورٹ کے متعلق اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ ‘بڑے پیمانے پر حملوں’ سے مراد موجودہ فوجی کارروائی ہے یا نہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ایران میں اب تک کوئی بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت یا حکومت کے اندر ایسا فرق نہیں آیا جس سے ریجیم گر جائے اور نیا نظام قائم ہو جائے۔ ایران پر اس کی مذہبی اور فوجی قیادت کا اب بھی  کنٹرول  ہے

سرنڈر ممکن نہیں، نظریہ ڈھے جائے گا

 واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینئر محقق کے مطابق ٹرمپ کے سامنے سرنڈر کرنا  ایران کی انتہا پسند مذہبی قیادت کے نظریات کے خلاف ہوگا،  یہ لوگ امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کو اپنا اصول سمجھتے ہیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سوزان مالونی کے مطابق  ایران کے اندر کوئی ایسی طاقت موجود نہیں جو حکومت کی باقی ماندہ طاقت کا مقابلہ کر سک۔ ملک کے اندر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: اسحاق ڈار کی ایرانی ہم منصب سے آج بھی فون پر بات





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *