حیدرآباد، 25 مارچ (آئی اے این ایس) سن رائزرس حیدرآباد کے قائم مقام کپتان ایشان کشن نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کے 19ویں سیزن سے قبل اپنی قیادت کے انداز پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کو پرسکون رہ کر ہر لمحہ جینا ہوگا۔ سن رائزرس حیدرآباد اپنی مہم کا آغاز 28 مارچ کو دفاعی چمپئن رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں کرے گی۔ ایشان کشن پہلی بار اپنی کیریئر میں ٹیم کی قیادت کریں گے کیونکہ مستقل کپتان پیٹ کمنز ابتدائی میچوں میں دستیاب نہیں ہوں گے۔ فرنچائز کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایشان کشن نے کہا کہ وہ ہمیشہ ٹیم کی قیادت کرنا چاہتے تھے اور اس موقع پر انہیں بے حد خوشی ہے۔انہوں نے کہا میں ہمیشہ ٹیم کا قائد بننا چاہتا تھا اور ہر صورتحال میں ٹیم کو آگے لے جانا چاہتا تھا۔ اس موقع پر میں بہت خوش اور پْرجوش ہوں۔ میں چیزوں کو سادہ رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ آئی پی ایل میں آنے والے تمام کھلاڑی پہلے ہی بہترین ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا، آپ کو صرف یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کھلاڑی درست سمت میں رہیں اور چند اننگز کے بعد ان کا ذہن منتشر نہ ہو۔ باقی ہم سب مل کر اچھا سیزن کھیلیں گے۔اپنے کپتانی کے اصول (منصوبہ) کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایشان کشن نے کہا کہ ٹیم موجودہ لمحے پر توجہ دے گی اور ایک وقت میں ایک میچ کھیلے گی۔انہوں نے کہا ایک کرکٹرکے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ پورے سیزن کے دوران اس کا ذہن پرسکون رہے۔ اگر آپ پْرسکون اور متوازن ہیں اور حالات کو سمجھتے ہیں تو آپ بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔انہوں نے مزید کہا اس سیزن میں ہم یہی یقینی بنائیں گے کہ ہم موجودہ صورت حال میں رہیں، چیزوں کو سادہ رکھیں اور میچ سے پہلے بھرپور محنت کریں لیکن میچ کے دوران ہم کھیل سے لطف اندوز ہوں گے اور ایک وقت میں ایک میچ پر توجہ مرکوز کریں گے۔ایشان کشن نے شائقین سے حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم گزشتہ 10 سال سے آئی پی ایل ٹرافی نہ جیتنے کے سلسلے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا ہماری ٹیم کی جانب سے میں تمام شائقین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ سیزن خاص ہوگا اور ہمیں آپ کی حمایت اور محبت کی ضرورت ہے۔ ہم آپ کے لیے اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گے۔واضح رہے کہ ایشان کشن حالیہ ٹی 20 ورلڈکپ 2026 میں شاندار فارم میں رہے، جہاں انہوں نے 13 میچوں میں 532 رنز اسکورکیے، اوسط 40.92 اور اسٹرائیک ریٹ 207 رہا۔حیدرآبادی شائقین کو اس سیزن بھی اپنی مقامی ٹیم سے ایک دھماکو بیٹنگ کی امید ہے جس نے گزشتہ دو سیزنوں میں رنز کے انبار لگائے ہیں لیکن اس کی کمزوری بولنگ شعبہ ہے جس میں بڑے نام نہ ہونے کی وجہ سے اہم مواقع پر ناکام ہونا پڑا ہے ۔
