امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے حملے میں شہید ہونے والے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف کیے گئے آپریشن کی تفصیلات بتادیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوگئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اب وقت نکل گیا انھیں یہ فیصلہ پہلے ہی کرلینا چاہیے تھا۔ یہ معاہدہ ایک ہفتہ پہلے ہی ہوجانا چاہیے تھا۔
امریکی صدر نے برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بعض فیصلوں سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کا منصوبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے ایک طویل آپریشن کا اندازہ لگایا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ ایرانی قیادت کو ختم کرنے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ہی دن میں ہوگیا۔
امریکی صدر نے بتایا کہ عسکری ماہرین اس آپریشن کو تقریباً 4 ہفتوں کا آپریشن سمجھ رہے تھے مگر کارروائی منصوبے سے کہیں زیادہ تیزی سے مکمل ہوگئی۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ آپریشن چار ہفتوں تک چلنے کا امکان تھا مگر ہم نے اپنا ہدف شیڈول سے بہت پہلے ہی حاصل کرلیا۔
صدر ٹرمپ نے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں کی کئی ہفتوں سے کڑی نگرانی کی جا رہی تھی۔
امریکی صدر کے بقول اسی دوران سی آئی اے کو ایک اہم معلومات ملیں اور ہم نے یہ نادر موقع ضائع نہ ہونے دینے کا فیصلہ لیا۔
برطانیہ کے فیصلے پر ناراضی
انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں برطانوی حکومت کے ایک فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی۔
امریکی صدر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے اپنے زیر انتظام اہم فوجی اڈے کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ نے بحرِ ہند میں واقع اہم فوجی اڈے ڈیگو گارسیا کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی منظوری نہیں دی جس سے انہیں مایوسی ہوئی۔
یہ اڈہ اسٹریٹجک طور پر انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں امریکا اور اس کے اتحادی مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں فوجی کارروائیوں کے لیے اسے استعمال کرتے رہے ہیں۔
