ایران۔ اسرائیل-امریکہ جنگ پرماہرین کا اظہار تشویش
نئی دہلی ۔14؍مارچ ( ایجنسیز)بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گزشتہ 15 دنوں میں 40 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے مغربی ایشیا میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے متاثر ہونے سے توانائی کی بین الاقوامی مارکیٹ، خاص طور سے ایشیائی ممالک پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے سے قبل 27 فروری کو بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 73 ڈالر فی بیرل تھی جبکہ ہفتے تک اس کی قیمت بڑھ کر تقریباً 103 ڈالر فی بیرل پہنچ گئی۔ اس طرح محض 15 دنوں میں تیل کی قیمت میں 30 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے جو تقریباً 41.1 فیصد اضافہ کے برابر ہے۔قابل ذکر ہے کہ ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ میں گزرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اثر آنے والے دنوں میں بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں واضح طور پر دکھائی دے گا۔ اینرچ منی کے کے سی ای او پونمْڈی آر نے کہا کہ آنے والا ہفتہ انتہائی اتار چڑھاؤ والا رہ سکتا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کی نظریں مکمل طور پر اس جنگ سے منسلک واقعات پر مرکوز رہیں گی۔
اینرچ منی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتہ میں سرمایہ کار اس بات پر گہری نظر رکھیں گے کہ متعلقہ ممالک کے سرکاری افسران اور عالمی اسٹیک ہولڈر تناؤ بڑھنے یا سفارتی حل کی سمت میں کیا اشارے دیتے ہیں۔ پونمْڈی آر کے مطابق اس جنگ کا اثر صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی بانڈ ییلڈ، کرنسی مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کے خطرہ مول لینے کی صلاحیت پر بھی پڑے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر خصوصی توجہ مرکوز رہے گی کیونکہ اسے دنیا کے اہم ترین توانائی کی سپلائی کے راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی آمد و رفت طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو اس سے عالمی تیل کی سپلائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ اس کا اثر ایشیا میں مہنگائی کی صورت میں پڑے گا اور عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی اور دباؤ کا ماحول برقرار رہ سکتا ہے۔
