Tue. Mar 17th, 2026

خواتین کی ملازمت شرعاً مباح مگر ترجیح بچوں کی پرورش ہو: علی جمعہ – Siasat Daily

TOP 14 9


قاہرہ ۔ 16 مارچ (ایجنسیز) مصر کے سابق مفتی اور الازہر شریف کے ممتاز علماء کی کونسل کے رکن ڈاکٹر علی جمعہ نے کہا ہے کہ عورت کا کام کرنا شرعاً مباح ہے لیکن یہ اس کی خاندانی ذمہ داریوں اور بچوں کی پرورش کی ترجیح کے ساتھ مشروط ہے۔رمضان المبارک کے دوران نشر ہونے والے پروگرام ’’نور الدین والشباب‘‘ میں انہوں نے کہا کہ بچوں کی پرورش اب ایک مشکل کام بن چکا ہے کیونکہ خاندان کے کردار کا مقابلہ کرنے والے بیرونی عوامل بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ممتا اور تربیتی نگہداشت ایک عظیم کام ہے جو کسی بھی پیشہ ورانہ کامیابی سے کم اہم نہیں ہے۔علی جمعہ نے توجہ دلائی کہ اسلامی شریعت نے عورت کو مالی خودمختاری دی ہے اور اسے مرد پر لازم کیے گئے اخراجات، مہر یا مالی کفالت کا پابند نہیں کیا تاکہ گھر میں اس کے بنیادی کردار کا تحفظ ہو سکے اور اسے خاندان اور نئی نسل کی پرورش کے لیے وقت میسر آ سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عورت کا کام کا انتخاب کرنا اصل میں جائز ہے لیکن کام اور خاندانی ذمہ داریوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ یہ بات مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ عورتوں کے کام کا بچوں اور خاندان کے استحکام پر کیا اثر پڑے گا۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *