Wed. Feb 18th, 2026

دنیا کو اب غزہ کی ’امن کونسل‘ کے افتتاحی اجلاس کا انتظار – Siasat Daily

P 4 a1 3


زائد از 20 ممالک کے سربراہان مملکت اور وزرائے خارجہ کی شرکت، نظریں واشنگٹن پر مرکوز

واشنگٹن ۔ 17فبروری (ایجنسیز) توقع ہیکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آئندہ جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ کیلئے مخصوص “امن کونسل” کے افتتاحی اجلاس کی میزبانی کریں گے، جس کا مقصد غزہ کی پٹی میں تعمیرِ نو کی کوششوں کو بڑی تقویت دینا اور جنگ کے بعد کے سکیورٹی انتظامات سے متعلق منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے۔توقع ہے کہ اس میں سربراہانِ مملکت اور وزرائے خارجہ کی سطح پر 20 سے زائد ممالک شرکت کریں گے۔ اسرائیل کی نمائندگی وزیر خارجہ جدعون ساعر کریں گے، کیونکہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اجلاس کے منتظمین میں شامل حکام نے واضح کیا ہے کہ اس نشست میں صورتحال سے متعلق تازہ ترین معلومات فراہم کی جائیں گی، جس میں یہ اعلان بھی شامل ہے کہ رکن ممالک نے غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کیلئے 5 ارب ڈالر سے زائد رقم فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔منتظمین نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ انہیں امید ہے کہ رکن ممالک استحکام قائم کرنے کیلئے مجوزہ بین الاقوامی فورس میں شامل ہونے کیلئے ہزاروں فوجی بھیجنے کا عہد کریں گے اور غزہ کی پٹی میں مقامی پولیس کی صلاحیتوں کو بڑھانے میں تعاون کریں گے۔ حکام اس اقدام کو تعمیر نو کا عمل شروع ہوتے ہی غزہ کی پٹی کو محفوظ بنانے کیلئے ضروری قرار دیتے ہیں۔واضح رہے کہ اب تک چار ممالک نے اعلانیہ طور پر استحکام فورس میں اپنے اہل کار بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان میں انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ وہ 8,000 تک فوجی بھیج سکتا ہے، یونان نے 100 فوجی اور طبی عملہ بھیجنے کا عہد کیا ہے، جبکہ اٹلی اور قبرص نے بھی تعداد بتائے بغیر شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
دیگر ممالک نے بھی دل چسپی ظاہر کی ہے، لیکن وہ اپنی شراکت داری کے بارے میں حتمی فیصلے سے قبل غزہ کی پٹی کو اسلحہ سے پاک کرنے کے معاملے میں ٹھوس پیش رفت کے منتظر ہیں۔اس اقدام سے وابستہ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ غیر مسلح کرنے کا عمل اگلے ماہ شروع ہو سکتا ہے، بشرطیکہ حماس تنظیم رضاکارانہ طور پر اپنے ہتھیار چھوڑنے پر راضی ہوجائے۔دوسری جانب، اسرائیلی سکیورٹی حکام نے غیر مسلح کرنے کے عمل اور بین الاقوامی فورس کے قیام کے امکان پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ایک اعلیٰ اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ زمین پر ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ حماس تنظیم اپنے ہتھیار حوالے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور انڈونیشیا کے اعلان کے علاوہ ہم نے غزہ کی پٹی میں بین الاقوامی افواج بھیجنے کے حوالے سے کوئی پختہ وعدے نہیں دیکھے۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *