
(24 نیوز)برطانیہ کے نئے سفری قوانین کے تحت دہری شہریت کے حامل نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا ہوگئیں۔
برطانیہ کے نئے سرحدی قوانین نے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد برطانوی نوجوان بیرونِ ملک پھنس گئے ہیں اور اپنے وطن واپس آنے سے قاصر ہیں۔
دہری شہریت رکھنے والوں کے لیے اچانک سخت کیے گئے قوانین نے ناصرف طلبہ بلکہ خاندانوں کو بھی شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ دہری شہریت کے حامل شہریوں کو برطانوی پاسپورٹ دکھانا لازمی ہے، ڈنمارک، اسپین اور ممبئی سمیت مختلف ممالک میں شہریوں کو پروازوں سے روک دیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں کئی کیسز سامنے آئے ہیں جہاں نوجوان صرف اس وجہ سے برطانیہ واپس نہیں آ سکے کیونکہ ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ موجود نہیں تھا۔
دوسری جانب، حکام کا مؤقف ہے کہ قوانین کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بڑھتی ہوئی شکایات اور انسانی مسائل کے باعث یہ پالیسی شدید تنقید کی زد میں ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کے سفیر کے لیے پیشگی اجازت نامہ لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔
برطانوی پاسپورٹ کے بغیر ملک میں داخلے کے لیے الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن کروانا ہوگی، امریکا، کینیڈا اور فرانس سمیت 85 ممالک کے شہریوں کو بھی ای ویزا لینا ہوگا۔
برطانوی حکومت نے نئی ای ٹی اے اسکیم 25 فروری سے نافذ کی ہے، برطانیہ میں دہری شہریت رکھنے والے افراد جن کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں ہے، انہیں نئے قوانین کے تحت ملک میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔
نئے قوانین کے مطابق برطانیہ آنے والے ایسے زائرین جن کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں ہے، انہیں ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزا، الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA)، یا سرٹیفکیٹ آف اینٹائٹلمنٹ (حقِ استحقاق کی دستاویز) کی ضرورت ہوگی۔
