Mon. Feb 23rd, 2026

راہول گاندھی سے جھارکھنڈ کے بہادر نوجوان ’محمد دیپک‘ کی ملاقات – Siasat Daily

TOP 26 3


دیپک کمار محبت کی دکان کے یودھا ، کوڈوار پہنچ کر جم کی ممبرشپ حاصل کرنے کا تیقن
حیدرآباد ۔23 ۔ فروری (سیاست نیوز) کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے آج نئی دہلی میں اتراکھنڈ کے دیپک کمار سے ملاقات کی جو دنیا بھر میں محمد دیپک کے نام سے شہرت اختیار کرچکے ہیں۔ اتراکھنڈ کے کوڈوار میں جم کے مالک دیپک کمار نے حال ہی میں بجرنگ دل کارکنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک ضعیف مسلمان تاجر کو ہراسانی سے بچایا تھا۔ مسلم تاجر کو دکان کے نام سے لفظ ’’بابا‘‘ نکالنے کیلئے بجرنگ دل کے کارکن دھمکیاں دے رہے تھے۔ اس مرحلہ پر دیپک کمار وہاں پہنچے اور مسلم تاجر وکیل احمد کا تحفظ کیا تھا۔ کانگریس پارٹی نے دیپک کمار سے ملاقات کی تصاویر سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر وائرل کرتے ہوئے لکھا کہ لیڈر آف اپوزیشن راہول گاندھی نے اتراکھنڈ کے محمد دیپک سے ملاقات کی جنہوں نے اتحاد ، بھائی چارہ اور بہادری کی مثال قائم کی ہے۔ پوسٹ میں لکھا گیا کہ ملک کے ہر نوجوان کو دیپک سے متاثر ہوکر ناانصافی اور نفرت کے خلاف کھڑا ہونا چاہئے۔ کانگریس پا رٹی کے پوسٹ میں لکھا گیا کہ دیپک محبت کی دکان کے سپاہی ہیں اور سارے ملک کو ان پر فخر ہے۔ راہول گاندھی سے ملاقات کے بعد دیپک کمار نے کہا کہ راہول گاندھی نے انہیں حوصلہ دیا اور کہا کہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ مثالی قدم ہے اور انہیں اپنے اقدام پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کانگریس پارٹی نے دیپک کو محبت کی دکان کا یودھا قرار دیا۔ دیپک نے بتایا کہ راہول گاندھی جی نے مجھے نئی دہلی آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے میری اہلیہ اور افراد خاندان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو کچھ بھی کیا وہ ایک درست قدم تھا اور مجھے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ کوڈوار پہنچ کر دیپک کے جم کی ممبرشپ حاصل کریں گے ۔ دیپک نے بتایا کہ کوڈوار میں صورتحال پہلے سے بہتر ہے۔ راہول جی نے میری ملاقات سونیا جی سے بھی کرائی۔ میرا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ کسی نے انسانیت کیلئے میری مساعی کو سمجھا ہے ۔ واضح رہے کہ جنوری میں بجرنگ دل کے کارکنوں نے پٹیل مارگ کے علاقہ میں واقع بابا کلاتھ اسٹور کے مالک 70 سالہ وکیل احمد کو دھمکی دی کہ دکان کے نام سے لفظ بابا کو ہٹایا جائے۔ اس موقع پر دیپک نے مداخلت کی اور بجرنگ دل کارکنوں سے ان کی مڈبھیڑ ہوگئی ۔ دیپک دراصل وکیل احمد کے فرزند کے دوست ہیں اور انہوں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے بجرنگ دل کارکنوں کو تشدد سے باز رکھا۔ پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پایا اور اس واقعہ کے سلسلہ میں تین علحدہ ایف آئی آر درج کئے گئے۔ دیپک کمار ایک مسلمان تاجر کو بچاتے ہوئے سوشیل میڈیا کے اسٹار بن گئے اور ان کے خلاف نفرتی عناصر نے مہم چھیڑدی ۔ باوجود اس کے دیپک نے نفرت کے خلاف جھکنے سے انکار کردیا۔ نفرتی عناصر کی مہم کے نتیجہ میں دیپک کمار کے جم میں ممبرشپ کی تعداد گھٹ گئی ۔ راہول گاندھی نے دیپک کمار کی بہادری اور نفرت کے خلاف آواز بلند کرنے کی ستائش کرتے ہوئے انہیں ملاقات کے لئے نئی دہلی مدعو کیا۔ راہول گاندھی نے جو ملک بھر میں نفرت کے خلاف محبت کی دکان کھولنے کی مہم پر ہیں، انہوں نے دیپک کمار کو بھروسہ دلایا کہ ملک میں نفرتی عناصر کی سرگرمیوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔1



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *