Wed. Mar 18th, 2026

رمضان، عید اور پٹرول بم

2716808 ashfaqullahj 1728915108


وہ رمضان المبارک اپنی تمام تر رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے ساتھ اہلِ ایمان پر سایہ فگن رہ کر رخصت ہونے کو ہے جسے اللہ نے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا، رمضان اللہ کے قریب ہونے، گناہوں پر ندامت کے آنسو بہانے، مغفرت کے دروازوں کھلوانے، رب کو راضی کرنے اور دوزخ کی آگ سے نجات کا مہینہ ہے۔

خوش نصیبوں نے رمضان کو اس کی شان کے مطابق گزارا ہوگا، روزوں کے اہتمام اور فرض عبادات کے ساتھ قیام الیل سے منور کیا ہوگا۔ قرآن عظیم الشان کی تلاوت کو معمول بنایا ہوگا، صدقات و خیرات کے ذریعے مستحق مخلوق کا سہارا بن کر خالق کا قرب حاصل اور اپنی لغزشوں کو معاف کروایا ہوگا۔ رمضان کا حق ادا کرنے والوں کے لئے رمضان یقیناً مغفرت، رحمت اور جہنم سے نجات کا پروانہ بن کر آتا ہے۔ رمضان باطن کی تطہیر اور کردار کی تعمیر کا مہینہ ہے۔ رمضان کے روزے صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، یہ صبر و شکر، تقویٰ، ایثار، تحمل اور ہمدردی کو زندگی کا حصہ بنانے کا سالانہ عملی تربیتی کورس ہے۔ رمضان کو رضا الہی کا طالب بن کر گزار جایا تو روحانی انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

رمضان کی آخری ساعتیں ہیں، سوچنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا حاصل کیا؟ کہ ہماری زندگیوں میں عبادت، اخلاق، دیانت اور انسان دوستی کا رنگ گہرا ہوا ہے کہ نہیں اور ہم اپنی زندگی کو تقویٰ، انصاف اور خیر کی بنیادوں پر استوار کرنے اور اس کیفیت کو عملی زندگی کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں، اگر ایسا ہے تو ہمیں اور معاشرہ دونوں کو فلاح و کامیابی کی طرف لے جائے گا انشاء اللہ۔

عید الفطر کی آمد آمد ہے، رمضان اور عیدالفطر دونوں قرب الہی حاصل کرنے، معاشرے میں اخوت و محبت، ضرورت مندوں کی مدد اور محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کا درس دیتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے کا ایک بڑا طبقہ غربت کی چکی میں پس رہا ہو تو رمضان اور عید دونوں آزمائش میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ مہنگائی نے غریبوں کی زندگی تو پہلے سے اجیرن کی تھی مگر بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے متوسط طبقے کا بھی جینا دوبھر کردیا گیا۔قیمتوں میں پہلے8 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اورٹھیک ایک ہفتے کے بعد 55 روپے لیٹر کا ظالمانہ اضافہ کیا گیا یوں فی لیٹر قیمت میں 63 روپے اضافہ ہوا تو ماہ رمضان میں مہنگائی کا بے قابو جن دستک دیئے بغیر غریبوں کے گھروں میں دھما چوکڑی کرنے داخل ہوا تو رمضان اور عید کی خوشیاں نگل گیا۔اسلام میں ریاست صرف انتظامی ادارہ نہیں، اخلاقی ذمہ داریوں کا حامل ادارہ بھی ہوتا ہے۔ خلافتِ راشدہ کا درخشاں دور جس کی بہترین اور واضح مثالیں ہیں۔ خلیفہ دوم امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے دو واقعات اسلامی ریاست اور حکمرانی کے تصور کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ ایک رات مدینہ کے اطراف گشت کے دوران حضرت عمرؓ نے ایک خیمے میں بچے کے رونے کی آواز سنی۔ تو پوچھا بچے پر کیوں ظلم کرکے رولا رہے ہیں آپ لوگ؟ مجبور ماں نے اندر سے جواب دیا کہ ظالم ہم ہیں کہ خلیفہ؟

امیرالمومنین سیدنا عمر فاروقؓ نے پوچھا کہ خلیفہ نے کیا ظلم کیا؟ عورت نے جواب دیا کہ امیرالمومنین دودھ پیتے بچوں کو روزینہ نہیں دیتے، ہم غربت و افلاس کے مارے ہیں اس لئے بچے کا دودھ چھڑانا چاہتے ہیں تاکہ اس کا روزینہ شروع ہوجائے، گھر میں بچے کو کھلانے کے لئے کچھ اور ہے نہیں بچہ اس لئے رو رہا ہے۔ اگر یہ واقعہ آج کے کسی حکمران کے ساتھ پیش آتا تو شاید اس غریب عورت کی جھونپڑی جلا دیتا مگر امیر المومنین بہت غمگین ہوئے اور فوراً بیت المال سے بچے کے پیدائش کے ساتھ روزینہ شروع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ ایک بار کسی گھر سے بچوں کی رونے کی آوازیں آرہی تھیں، معلوم کیا تو ماں خالی ہانڈی میں پانی ابال کر بھوکے بچوں کو بہلا رہی کہ سو جائیں، عمرؓ بہت غمگین ہوئے بیت المال گئے اور آٹا اور دیگر سامان عمرؓ نے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر پہنچایا۔ خادم نے بوجھ اٹھانا چاہا تو عمرؓ نے جواب دیا کہ “قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟”

حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں بیت المال کے نظم و نسق اور معاشی انصاف کی وجہ سے اکثر اوقات زکوٰۃ لینے والا کوئی مستحق نہیں ملتا تھا۔ یہ واقعات اس پر دلالت کرتے ہیں کہ اسلامی ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کی فلاح اور معاشی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ مگر ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

کلمہ طیبہ کے نام پر بنے پاکستان میں اگر صحیح معنوں میں اسلام نافذ ہوجاتا تو کوئی غریب بھوکا سوتا نہ حکمرانوں کے لیے استثنا کے قوانین بنتے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی پالیسیاں تمام بوجھ عوام پر منتقل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ حالیہ پیٹرول بم اس کی ایک واضح مثال ہے۔ شریعت مطہرہ میں حکمرانوں کو عوامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے کی تلقین کی گئی ہے لیکن یہاں ہر مشکل میں غریب کا سر ہی چکی میں دیا جاتا ہے، ریاستی جبر، بے رحمانہ اور ظالمانہ فیصلے آئیں گے تو پھر غریبوں، لاچاروں اور بے بس لوگوں کی ذمہ داری معاشرے کے آسودہ حال لوگوں پر عائد ہوجاتی ہے۔ رمضان اور عید کے مواقع پر ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں یہ معاشرتی ہم آہنگی ، مساوات اور خوشیاں بانٹنے کا موقع ہوتا ہے، اس موقع پر غریبوں کو مانگنے کی نوبت نہیں آنی چاہیے۔

اگر خدانخواستہ آسودہ حال لوگ مدد نہیں کرینگے تو ان کی عید کی تیاریاں بنیادی ضروریات سے محروم غربا کی غربت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہوگا۔ ایسے مواقع پر غریبوں کا خیال رکھنا معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ علماء کرام، مخیر حضرات اور معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد پر واضح کریں کہ ان پر لازم ہے کہ وہ زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کریں، مگر حقیقت ہے کہ یہ فلاحی اقدامات وقتی ریلیف فراہم کرتے ہیں اور مستقل حل ایک متوازن شرعی معاشی نظام کے نفاذ میںہے مگر ہمارے سودی اور استحصالی معاشی نظام میں غریب کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں پٹرول بم بہت سارے بموں کی ماں بن کر غریبوں کے آنگن میں گرتا ہے، جس کے اثرات صرف کرایوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پوری معیشت اور عام آدمی کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔

جس ملک میں لاکھوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، روز ہزاروں گر رہے ہوں اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہو وہاں اس طرح کے پیٹرول بم عوام الناس کو جبری طور پر خط غربت سے نیچے دھکیل کر گرانے کے مترادف ہے۔ پٹرول بم، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے طوفان کو جنم دیتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات معیشت و معاشرت دونوں کی شہہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو کرایوں میں اضافے کا بم اچانک گرتا ہے، ترسیل کے اخراجات بڑھنے کی وجہ سے اشیائے خور و نوش اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بڑھ کر مہنگائی بم گرانے میں دیر نہیں لگتی۔

پٹرول بم بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافے کا سبب بن کر بجلی بم گرانے میں دیر نہیں لگاتا، بجلی بم گرنے سے صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا بوجھ بھی آخرکار صارفین پر دوسرے مہنگائی بم کی شکل میں گرتا ہے۔ جو متوسط اور غریب طبقہ کے تنخواہ دار، دیہاڑی دار مزدور اور چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کی جیبوں کے ساتھ دماغ میں جاکر پھٹتا تو نوبت فاقوں سے خود کشیوں تک پہنچ جاتی ہے۔یا ریاستی معاشی بمباری کی وجہ سے ناقابل برداشت  مہنگائی مزید بڑھنے سے عوام میں بے چینی و مایوسی بڑھنے لگتی ہے جو بعض اوقات انقلاب کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

حکومت اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، مالیاتی دباؤ اور اقتصادی مجبوریوں کی صورت میں سارے ڈاکے عوام کی جیبوں پر ڈالنے کی بجائے، معاشی پالیسیاں بناتے اور فیصلے کرتے وقت عوامی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر پٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں میں کمی، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری اور متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے پر توجہ دیتی تو شاید عوام کو کچھ ریلیف ملتا۔ معاشی پالیسیوں میں توازن وقت کا تقاضا اور ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو بھی جینے کا بہانہ مل جائے۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *