
(ویب ڈیسک)براعظم افریقہ کے ملک مالی میں فوجی حکومت نے سابق وزیرِ اعظم موسٰی مارا پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر کی گئی ایک پوسٹ پر ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچانے، جائز اتھارٹی کی مخالفت کرنے اور عوامی نظم کو بگاڑنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی ۔موسٰی مارا جو تقریباً دس سال قبل9ماہ کے لئے وزیر اعظم رہ چکے ہیں حالیہ دنوں میں فوجی حکومت کے سخت ناقد بن کر ابھرے ہیں۔
عالمی نیوز ایجنسی کے مطابق سابق وزیراعظم موسٰی مارا پر یہ الزامات کی بنیاد سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر کی گئی ایک پوسٹ ہے جو انھوں نے 4 جولائی کو کی تھی۔موسیٰ مارا نے جولائی میں مالی کی جیلوں میں بند اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اپنی پوسٹ میں ان قیدیوں کو “ضمیر کے قیدی” قرار دیتے ہوئے ان سے “غیر متزلزل یکجہتی” کا اظہار کیا تھا۔انھوں نے یہ بھی لکھا کہ جب تک رات باقی ہے، سورج ضرور طلوع ہوگا! اور ہم ہر ممکن ذریعے سے اس کے لیے لڑیں گے اور جتنی جلد ممکن ہو۔مالی کے سائبر کرائم یونٹ نے اس پوسٹ کو حکومت کی اتھارٹی کے خلاف اقدام قرار دیا اور جمعرات کے روز مارا کو دوسری بار تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا۔مالی کی سائبر کرائم یونٹ کے پراسیکیوٹر کے مطابق “ضمیر کے قیدیوں” جیسے الفاظ کا استعمال اور ان کے لیے لڑنے کی بات کرنا ریاست کے وقار اور اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔جمعہ کے روز موسیٰ مارا پر باضابطہ الزامات عائد کیے گئے اور ان کا مقدمہ 29 ستمبر کو سنا جائے گا۔ مالی میں فوجی حکومت نے 2020 اور 2021 میں دو بار اقتدار پر قبضہ کیا۔حالیہ مہینوں میں حکومت کی جانب سے سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی خاص طور پر مئی میں ہونے والے عوامی احتجاج کے بعد۔
یہ بھی پڑھیں:ناراض ہو کر سسرال جانیوالی حاملہ بیوی کو شوہر نے گلا کاٹ کر مار دیا
