Wed. Feb 4th, 2026

سرسبز اوتھل کے سائے میں پیاسا کیواری، بلوچستان کے آبی بحران کی کہانی

392306 419960926


’میرے بچپن میں ہمارے گھر دو سو کے قریب گائے تھیں، اس وقت پانی کی کمی تھی نہ چارے کی۔ پانی کم ہوا توچارا بھی کم ہوگیا اور پھر یہ جانور بکتے رہے، کچھ مر بھی گئے۔

یہ کہنا تھا 65 سالہ چھتاں بی بی کا، جو بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی تحصیل اوتھل میں واقع گاﺅں دریگا کیواری کی رہائشی ہیں۔

ان کے بیٹے ماسٹر ثنا اللہ نے اپنی والدہ کی تائید کرتے ہوئے کہا: ’ہماری زندگی زراعت اور مویشیوں کے گرد گھومتی ہے اور دونوں کو پانی چاہیے۔ آپ دیکھ سکتی ہیں کہ مویشیوں کی کیا حالت ہوگئی ہے۔‘

ثناء اللہ گاﺅں کے پرائمری سکول میں پڑھاتے ہیں۔ انہوں نے ایک جانب جگالی کرتی بکریوں کی طرف اشارہ کیا، جو خاصی لاغر نظر آرہی تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ خشک سالی نے ہماری فصلیں تباہ کردی ہیں، مویشیوں کے لیے بھی پانی نہیں، لہذا گاﺅں والے اپنے مویشی اونے پونے بیچ رہے ہیں۔ یوں غربت میں اور اضافہ ہو رہا ہے۔

’بقول ہماری امی، ہمارے نانا کے گھر دو سو گائے تھیں، لیکن ہمارے گھر صرف چند بکریاں ہیں۔ زیادہ رکھ نہیں سکتے، ان کے لیے چارا اور پانی کہاں سے آئے گا۔ اب ہمارے لیے گھروں سے دور صرف شہر جا کر مزدوری کرنے کا آسرا ہے۔ گاﺅں کے ہر گھر سے ایک مرد مزدوری کرنے نکلا ہوا ہے اور یہ مزدوری بھی صرف ماہی گیری تک محدود ہے۔‘

کیواری کے رہائشی احمد کا بھی یہی کہنا تھا کہ پانی کی کمی ان کے ذریعہ روزگار یعنی مویشی بانی پر اثر انداز ہوتی ہے۔

احمد نے بتایا: ’مویشی ہمارا بینک ہیں۔ جب جانور مر جائیں تو سمجھ لیں کہ ہمارا مستقبل مر جاتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ کئی خاندانوں کے لیے چند جانوروں کا نقصان بھی ان سے جینے کی امنگ چھین لیتا ہے۔

ایک جانب کیواری کی خشک سالی اور دوسری جانب لسبیلہ اور اوتھل کے سڑک کنارے سرسبز کھیت اور کھجور و چیکو کے باغات دیکھ کر خشک سالی کی باتیں کہانی لگنے لگتی ہیں مگر جیسے جیسے آگے کی طرف بڑھتے ہیں، منظرنامہ بدلنے لگتا ہے۔

صرف 40 کلومیٹر دور گاﺅں دریگا کیواری میں یہ کہانی سچ کا روپ دھار لیتی ہے۔ جنوری کی تیز دھوپ میں دور دور تک ہُو کا عالم، چاروں جانب خشک اور دھوپ سے جھلسی جھاڑ جھنکاڑ، سوکھے، پتوں سے محروم ٹنڈ منڈ درخت، سینکڑوں ایکڑ پر لگی ارنڈی کی جلی ہوئی فصلیں۔

بارشوں کے نہ ہونے سے یہاں کے کسانوں کا شدید نقصان ہوا تھا۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لیے اگرچہ مقامی آبادی نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک بند بھی باندھا ہوا تھا لیکن بارش کے نہ ہونے کے باعث وہاں مٹی اڑ رہی تھی۔ قریب ہی آبادی کے استعمال کے لیے تین کنوئیں بھی موجود تھے، جن میں پانی کی سطح ناقابل حصول حد تک نیچے جا چکی تھی۔

اوتھل کے سبزہ زار وہاں سے گزرنے والی ندی کرڑی کے مرہون منت ہیں، جس کے باعث زیر زمین پانی کی سطح کسی حد تک بلند ہے کہ پانی کی دستیابی آسان ہے جبکہ کیواری اور اس جیسے علاقے بارشوں پر انحصار کرتے ہیں۔

اوتھل کے سرسبز باغات اور کیواری کی جلی ہوئی فصلوں کا موازنہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ بارشوں پر انحصار کرتی آبادی کے لیے کوئی متبادل آبی انتظام نا گزیر ہے۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ بلوچستان کو انڈس ایری گیشن سسٹم سے صرف تین فیصد پانی ملتا ہے۔ اس کے علاوہ بارشیں ہی یہاں پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ کرہ ارض اب موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے اور جرمن واچ گلوبل انڈیکس میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات بھگتنے والے اولین دس ممالک میں پاکستان کا نمبر پہلا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب ویدر پیٹرن بدل چکا ہے۔ بلوچستان ویسے ہی ایک خشک اور نیم خشک خطہ ہے۔ یہاں بارشیں کم ہوتی ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اب یہاں بھی بارشوں کا نہ ہونا یا کم وقت میں تیز بارش معمول بن چکا ہے۔

 محکمہ آب پاشی بلوچستان سے وابستہ فزیر احمد کے مطابق اگرچہ خشک سالی بلوچستان کے لیے نئی نہیں ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے اسے اور بڑھاوا دیا ہے۔ 1997 سے 2012 کے درمیان شدید کثیر سالہ خشک سالی کے دور نے گہرے نقوش چھوڑے، خاص طور پر 2000، 2004، 2006، 2007، 2009، 2010، 2011، 17-2014، 2018، 2020 اور اب 25-2024 میں شدید خشک سالی دیکھی گئی۔ ان سالوں میں فصلیں برباد ہوئیں، مویشیوں کی بڑی تعداد میں موت ہوئی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ صوبے بھر میں خشک سالی اب ایک موسمی واقعے سے ایک انسانی بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ محکمہ موسمیات پاکستان کے مطابق بلوچستان کے دو تہائی سے زیادہ اضلاع اس وقت درمیانے سے شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔ بارش پر منحصر علاقوں میں فصلیں تباہ، چراگاہیں خشک، چشمے خشک، بند خالی اور ریت کے ٹیلے آہستہ آہستہ زرعی زمینیں نگل رہے ہیں۔کیواری کا علاقہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔

ماہر ہائیڈرولوجسٹ ظفر اقبال وٹو بھی اتفاق کرتے ہیں کہ پچھلے سال بلوچستان میں بارشیں 52 فیصد کم ہوئیں، گویا آدھی مقدار میں بارشیں ہوئیں لیکن کچھ علاقے ایسے بھی ہیں، جہاں برف باری اور اچھی مقدار میں بارشیں ہوتی ہیں، وہاں سنو ہارویسٹنگ یعنی اس پانی کو محفوظ کرلینا چاہیے۔

زیادہ تر پھلوں کے باغات اسی علاقے میں ہیں اور باغات کے لیے بے تحاشہ پانی زمین سے نکالا جا رہا ہے۔ اس کی روک تھام بھی ضروری ہے۔

ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے پانی سے اگرچہ بلوچستان کو بہت کم شیئر ملتا ہے، مگر اس پانی کو بلوچستان تک لانے والی دونوں نہریں پٹ فیڈر کینال اور کچھی کینال غیر فعال ہیں۔ اگر یہ دونوں نہریں فعال ہوجائیں تو متصل علاقوں میں زراعت کے لیے پانی کا مسئلہ خاصی حد تک حل ہو سکتا ہے۔

بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام کے سربراہ طاہر رشید اس صورت حال کا تفصیل سے تجزیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صوبے میں خشک سالی محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ اس میں انسانی سرگرمیوں کا بھی پورا دخل ہے۔ کئی دہائیوں سے بلوچستان کا نازک ماحولیاتی نظام تباہ ہو رہا ہے کیونکہ زیر زمین پانی کا بے تحاشا استعمال، چراگاہوں کی بگڑتی حالت اور مٹی کی زرخیزی میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔کلائیمیٹ چینج سے اس تباہی کا دائرہ اور وسیع ہو رہا ہے۔

 طاہر صاحب نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فصلوں کی پیداوار کے لیے پانی کی عدم دستیابی پائیدار زراعت کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مقامی آبادی کی آمدنی کے بنیادی ذرائع مویشی بانی اور زراعت ہیں، جن کے لیے پانی درکار ہے۔ پانی، جو اس صوبے میں سب سے زیادہ مطلوب قدرتی وسیلہ ہے، تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ دیہی آبادی کی اکثریت غربت کا شکار ہے اور ان کے حالاتِ زندگی بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارا پرگرام بی آر ایس پی آبی انتظامات پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔ بی آر ایس پی نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مربوط آبی انتظام کے متعدد منصوبے مکمل کیے ہیں، جن کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں اضافہ، مویشیوں کی پیداوار میں بہتری اور دیہی غریب آبادی کے لیے پینے کے پانی کی ضروریات پوری کی گئی ہیں۔ مثلا 3 اعلیٰ کارکردگی کے حامل ایری گیشن سسٹم اور 729 ایری گیشن سکیمز مکمل کی گئی ہیں، 143 کاریزات کو بہتر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی آبادی کے لیے پانی کی آسان فراہمی کے غرض سے 132 سولر پمپ لگائے گئے ہیں۔ 93,030 کمیونٹی ممبرز کو آبی وسائل کے انتظام کے حوالے سے تربیت دی گئی ہے۔

لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگری کلچر واٹر اینڈ میرین سائنس اوتھل کے ڈپارٹمنٹ آف واٹر ریسورسزکے لیکچرار امان جان کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ کنوﺅں کا پانی زراعت کے لیے استعمال کرتے تھے تو صورت حال اتنی خراب نہیں تھی مگر ٹیوب ویل کے استعمال سے بگاڑ آنا شروع ہوا۔ ’حکومت کی بجلی کی مد میں دی گئی سبسڈی نے اس سلسلے کو بہت بڑھا دیا۔ زیرِ زمین پانی کی سطح گرتی چلی گئی۔ بارشیں اتنی نہیں ہوتیں کہ زیر زمین پانی کی سطح برقرار رہ سکے۔‘

 انہوں نے مزید کہا: ’مکران ریجن میں خصوصاً بلیدہ اور بالگتر میں چاول بھی اگائے جاتے ہیں، جو دراصل خودکشی سے کم نہیں۔‘

چاول کی فصل کو پانی زیادہ چاہیے اور کھیتوں میں یہ کھڑا پانی گرم موسم کے باعث آبی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس سے فائدہ وقتی تو ضرور ہوگا مگر مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

یہ سچ ہے کہ بلوچستان کی معیشت زراعت اور مویشی بانی کے گرد گھومتی ہے اور فراہمی آب ان دونوں کے لیے بنیادی ضرورت ہے۔ اندازے کے مطابق صوبے کی دیہی آبادی کا 70 سے 85 فیصد حصہ زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے سے وابستہ ہے۔

2023 کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی مجموعی آبادی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے، جس میں سے لگ بھگ 80 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ اس تناسب کو مدنظر رکھا جائے تو ایک کروڑ سے زائد افراد کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ طور پر زراعت اور مویشی بانی سے جڑا ہوا ہے۔ بلوچستان کی اہم فصلوں میں گندم، جو، چاول، مکئی، کپاس (کچھ علاقوں میں)، ارنڈی، مختلف اقسام کی سبزیاں اور تقریباً تمام ہی پھل شامل ہیں، اسی لیے اسے پاکستان کی ’فروٹ باسکٹ‘ بھی کہا جاتا ہے۔

بلوچستان کے روایتی آبی وسائل میں کاریزات سرفہرست ہیں۔ پاکستان میں صرف صوبہ بلوچستان کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ یہاں نظام کاریزات ایک بڑے علاقے میں موجود ہے۔ ان کاریزات کی تعداد 1264 ہے۔

آبی انجینیئرنگ کا شاہکار کاریزات کا یہ نظام تین ہزار سال قدیم ہے، یوں سمجھ لیں کہ یہ دراصل ’زیر زمین‘ نہری نظام ہے۔ ماہرین کے مطابق کاریز سے 200 لیٹر پانی فی سیکنڈ منتقل کیا جاتا ہے، جو ایک علاقے کے 200 خاندانوں کی زراعت کے لیے کافی ہوتا ہے۔

 اس وقت دنیا کے 22 ممالک میں کاریزات کا نظام رائج ہے، جس میں پاکستان کے علاوہ ایران، چلی، افغانستان، فلسطین، شمالی افریقہ اور عرب خطے کے ممالک نمایاں ہیں۔

اس افادیت کے باوجود بد قسمتی سے 1970کی دہائی میں حکومت بلوچستان اور کچھ عالمی اداروں کے منصوبوں میں کاریز کے اس نظام کو دقیانوسی نظام قرار دیا گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان میں ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کا استعمال شروع ہو چکا تھا اور زیادہ سے زیادہ پانی زمین سے کھینچ نکالنے کا چلن بڑھتا جا رہا تھا۔ زیادہ پانی نکالنے کے باعث زیر زمین پانی میں کمی اور کاریزات کے سوکھنے کا عمل شروع ہوگیا۔

طاہر رشید اتفاق کرتے ہیں کہ بلوچستان میں کاریزات کا نظام بہترین ہے جبکہ ٹیوب ویل کا بے تحاشہ استعمال پانی کے بحران کا ایک بڑا سبب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام اس شعبے میں ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ حکمت عملی اختیار کی گئی ہے کہ چھوٹے کاشت کاروں، پانی کے حصے داروں اور مقامی اداروں کو ساتھ لے کر پائیدار ذرائع معاش کو فروغ دیا جائے تاکہ کمیونٹی کی فوری ضروریات اور طویل المدتی ضرورت بھی پوری ہوتی رہے اور ماحول کو بھی نقصان نہ ہو ۔

حیاتیاتی تنوع اور خشک سالی

بارشوں کی کمی نے حیاتی تنوع کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے تکنیکی مشیر معظم خان کے مطابق دلدل اور کھیت تیزی سے خشک ہو رہے ہیں، جس سے مویشیوں کو پانی یا چارا نہیں مل رہا۔

دلدل میں رہنے والے مگرمچھ جیسے جنگلی جانور، جو میٹھے پانی کے تالابوں پر انحصار کرتے ہیں، اپنے قدرتی مسکن کھو رہے ہیں اور زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

برساتی ندیوں میں میٹھے پانی کی کمی مکران کے ساحلی دلدلی علاقوں کے حیاتیاتی تنوع کو متاثر کر رہی ہے۔ بارشوں کی کمی سے بحیرہ عرب کے پانی کی مقدار میں نمکیات بڑھ رہی ہے۔ یہ تبدیلی ساحلی ماحولیاتی نظام، ماہی گیری اور سمندری حیات کے توازن کو خطرے میں ڈال رہی ہے، جو میٹھے اور نمکین پانی کے ملاپ پر منحصر ہے۔ خشک سالی ساحلی ماحول کو بھی تبدیل کر رہی ہے، جس سے ممکن ہے کہ بازیابی میں دہائیاں لگ جائیں۔

ممکنہ حل

ظفر اقبال وٹو کے مطابق بارش پر انحصار کرتے ان علاقوں میں پانی کا بحران صرف قدرتی نہیں بلکہ انتظامی مسئلہ بھی ہے۔ بلوچستان میں 12 ملین ایکڑ فٹ سالانہ بارش کا پانی میسر ہوتا ہے۔ یہ مقدار بہت زیادہ ہے جو پورے پاکستان کے پانی کا 25 فیصد بنتی ہے، لیکن پہاڑوں کی وجہ سے یہ پانی تیزی سے نشیب میں بہہ جاتا ہے۔

لہذا ضروری ہے کہ تالابوں، جوہڑوں، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے روایتی نظام اور چھوٹے آبی ذخائر تعمیر کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل نہ ہونے کے باعث یہ سرفیس واٹر ( تقریباً 12 ملین ایکڑ فٹ) ضائع ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ روایتی آبی وسائل میں کاریزات کو بحال کرنا چاہیے۔

امان جان کے مطابق بارش پر منحصر علاقوں میں مائیکرو لیول پر آبی انتظام ناگزیر ہو چکا ہے۔ گاؤں اور یونین کونسل کی سطح پر واٹر ہارویسٹنگ، چھوٹے چیک ڈیمز، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے سادہ مگر موثر طریقے اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت لازمی ہے۔

جب پانی کو اس کی پیدائش کی جگہ پر محفوظ اور منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے، تو نہ صرف خشک سالی کے اثرات کم ہوتے ہیں بلکہ مقامی لوگوں کا ذریعہ معاش بھی محفوظ ہوتا ہے۔

طاہر رشید کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال بہت زیادہ توجہ کی متقاضی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی جائے، مربوط اقدامات اٹھائے جائیں، آب پاشی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی جائے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ پالیسیاں اپنائی جائیں، تاکہ ایسے بحران بار بار جنم نہ لیں۔

یکجہتی کو محض ہمدردی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پائیدار اور دیرپا حل میں ڈھالنا ہوگا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *