بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آنکھ کے علاج اور بینائی سے متعلق سامنے آنے والی تازہ طبی رپورٹس میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ شوکت خانم میں ان کے ذاتی معالجین نے حکام سے براہ راست معائنے اور علاج کے عمل میں شامل کیے جانے کی درخواست کر دی ہے۔
عمران خان کے طویل عرصے سے ذاتی معالج ڈاکٹر عاصم یوسف نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد کے ان ماہر امراض چشم سے تفصیلی ٹیلیفونک گفتگو کی جو سابق وزیر اعظم کا علاج کر رہے ہیں۔ اس گفتگو میں لاہور کے ریٹینا سپیشلسٹ ڈاکٹر خرم اعظم مرزا بھی شریک ہوئے۔
ڈاکٹر عاصم یوسف کے مطابق تقریباً 40 منٹ جاری رہنے والی گفتگو میں ڈاکٹرز نے عمران خان کی بیماری کی تشخیص، علامات، اب تک کیے گئے علاج اور آئندہ کے طبی منصوبے سے آگاہ کیا۔ ان کے بقول تازہ معائنے میں عمران خان کی آنکھ کی حالت اور بینائی میں نمایاں بہتری رپورٹ ہوئی ہے تاہم چونکہ انہوں نے خود مریض کا معائنہ نہیں کیا، اس لیے وہ اس کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے۔
انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ انہیں، ڈاکٹر فیصل سلطان اور خاندان کی جانب سے نامزد دیگر معالجین کو عمران خان کے معائنے اور علاج میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے، جبکہ مزید ٹیسٹ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کرانے کی بھی سفارش کی۔
ڈاکٹر عاصم یوسف کا تازہ بیان، جو انہوں نے عمران خان کے موجودہ علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ کانفرنس کال کرنے اور ان ڈاکٹروں کے حالیہ چیک اپ وزٹ کے بعد جاری کیا ہے۔
“اسلام آباد کے ڈاکٹرز نے تفصیل سے بتایا کہ وہ کب سے خان صاحب کو دیکھ رہے ہیں، کون کون سے ٹیسٹ کیے گئے، کیا تشخیص… pic.twitter.com/kFOfgVkGTx
— PTI (@PTIofficial) February 16, 2026
دوسری جانب بیرسٹر گوہر خان اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پمز ہسپتال کا دورہ کیا جہاں ڈاکٹرز نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بریفنگ دی۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے 15 فروری 2026 کو آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کیا، جس میں الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق دائیں آنکھ کی بینائی عینک کے بغیر 6/24 پارشل جبکہ بائیں آنکھ کی 6/9 ریکارڈ کی گئی، جو عینک کے استعمال سے بہتر ہو کر بالترتیب 6/9 پارشل اور 6/6 ہو گئی۔
دائیں آنکھ میں خون کی روانی متاثر ہونے اور پردہ بصارت پر سوزش کے آثار پائے گئے، تاہم سوجن میں واضح کمی آئی اور موٹائی 550 سے کم ہو کر 350 تک آ گئی، جسے بہتری کی علامت قرار دیا گیا۔
میڈیکل بورڈ نے دونوں آنکھوں کے لیے مخصوص آئی ڈراپس تجویز کیے جبکہ آئندہ اینٹی وی ای جی ایف علاج مکمل ہونے کے بعد مزید ٹیسٹ کرانے کا مشورہ دیا۔
اس سے قبل عمران خان 24 جنوری کی رات اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں طبی طریقۂ علاج سے بھی گزر چکے ہیں۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایک طبی رپورٹ میں ان کی بیماری کی تشخیص دائیں آنکھ کی سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن بتائی گئی تھی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں عمران خان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 15 فیصد رہ گئی ہے اور انہیں بعض اوقات ذاتی معالجین تک رسائی بھی نہیں دی گئی۔
ادھر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بینائی سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تازہ معائنے کے مطابق تشویش کی کوئی بات نہیں۔
ان کے مطابق عینک کے استعمال سے ایک آنکھ کی بینائی تقریباً 70 فیصد جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی مکمل ٹھیک ہے۔
عمران خان کے اہلِ خانہ اور تحریک انصاف مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں مکمل طبی معائنے کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے جبکہ اپوزیشن اس مطالبے کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا بھی دے رہی ہے۔
