(ویب ڈیسک)لیڈی ڈیانا موت کے 28 سال بعد پیرس کے عجائب گھر کی زینت بن گئیں۔
آج کی دُنیا بھلے زمانہ قدیم کے بادشاہوں اورشہزادوں کی دُنیانہیں ہے،اب پرستان کی شہزادی کوکسی ظالم دیو کی قیدسے چُھڑوانے والے شہزادے بھی دکھائی نہیں دیتے،لیکن شاہی خاندانوں سے وابستہ اسراراوررومانس آج بھی برقرار ہے،برطانیہ کے روایت پسندمعاشرے میں شاہی خاندان کیساتھ عوام کی وابستگی اورمحبّت آج بھی مثالی سمجھی جاتی ہے۔

اگرچہ برطانیہ کے سیاسی معاملات پر براہِ راست شاہی خاندان کاکنٹرول نہیں ہے لیکن اس خاندان کاہرفرد برطانوی عوام کے دلوں پر حکومت کرتاہے،اسی خاندان کی ایک شہزادی کا نام ڈیانا تھاجوملکہ تو نہ بن سکی لیکن برطانوی عوام اوردُنیا بھرمیں پھیلے اپنے پرستاروں کے دلوں پرآج بھی اس کی حکومت ہے۔

”پرنسرآف ویلز“ڈیاناکواس دُنیا سے گئے28سال ہوچکے ہیں مگرلوگوں کوان کی مُسکراہٹ اورشرارت سے بھرپورآنکھیں آج بھی نہیں بھولیں اسی لئے جب برطانوی شاہی خاندان کاذکر آتاہے توڈیانا کا ہنستامُسکراتاچہرہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔

پیرس کے گریون میوزیم (Grévin Museum) نے آنجہانی شہزادی ڈیانا کا مومی مجسمہ ’’ریوینج ڈریس‘‘ میں نمائش کے لیے پیش کردیاہے۔میوزیم کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لیڈی ڈیانا کے مجسمے کیلئے 1996 میں ملاقات طے تھی مگر 1997 میں لیڈی ڈیانا کے کار حادثے میں موت کے بعد منصوبہ روک دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ جولائی 1981 کو لیڈی ڈیانا اور برطانوی شہزادہ چارلس کی شادی ہوئی جسے’ ’صدی کی سب سے بڑی شادی‘‘ کہا گیا تھا ،تاہم بعد ازاں اگست 1996 میں دونوں کی باقاعدہ طلاق ہوگئی۔
