
(ویب ڈیسک) ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور ابتدائی جھڑپوں نے اسرائیلی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال دیا ہے،اسرائیلی میڈیا کے مطابق صرف ابتدائی 2دنوں میں اسرائیل کو ڈیڑھ ارب ڈالر کا خرچہ برداشت کرنا پڑا۔
رپورٹس کے مطابق اگر ایران کے ساتھ یہ جنگ طویل ہو جاتی ہے تو آئندہ 7 ہفتوں میں اسرائیل کو 70 ارب ڈالر تک کے اضافی اخراجات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی دفاعی بجٹ میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، 2023 میں اسرائیل کا دفاعی بجٹ 17 ارب ڈالر تھا جو 2024 میں بڑھ کر 28 ارب ڈالر ہو گیا۔ اب اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2025 میں یہ بجٹ 34 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ان بڑھتے ہوئے اخراجات کے نتیجے میں اسرائیل کا بجٹ خسارہ بھی مسلسل بڑھ رہا ہے جو اس سال کے اختتام تک 27.6 ارب ڈالر تک جا پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،دفاعی ضروریات اور جاری تنازعات کے باعث اسرائیلی حکومت کو ایک طرف معاشی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری جانب سیاسی تنقید بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ 2024 میں غزہ کے ساتھ جنگ کی لاگت پہلے ہی 67 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : “ایسے کو تیسا” فلسطین پر فاسفورس بم گرانے والا اسرائیل ایرانی کلسٹر بم حملے پر چیخ اُٹھا
