Mon. Mar 16th, 2026

طلباء اور زائرین پر مشتمل 70 افراد ایران سے ہندوستان واپس – Siasat Daily

awal 9


آرمینیا اور دبئی کے راستے وطن لایا گیا‘ افراد خاندان نے راحت کی سانس لی

نئی دہلی ۔15؍مارچ ( ایجنسیز ) مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان ایران میں موجود ہندوستانیوں کیلئے اچھی خبر ہے۔ ایران میں زیر تعلیم 70 سے زائد ہندوستانی طلباء اور کچھ زائرین بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اتوار کی صبح جب ان کی پرواز نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتری تو طویل اور دباؤ بھرے سفر کے بعد ان کے چہروں پر راحت اور مسکراہٹ نمایاں تھی۔ ایران میں جاری جنگ کے دوران ان طلباء اور زائرین کو آرمینیا اور دبئی کے راستے ہندوستان لایا گیا۔ زیادہ تر طلباء کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے جو ایران کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھویہامی نے ہفتہ کو بتایا تھا کہ ہندوستانی طلباء اور زائرین کا یہ گروپ فلائی دبئی کی کمرشل پرواز سے ہندوستان واپس آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء آرمینیا کی راجدھانی یریوان کے زرٹنوٹس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ۔ 8124 سے روانہ ہوئے تھے۔ اس سفر کا پہلا مرحلہ ہفتے کے روز یریوان سے دبئی تک کا تھا، جہاں پرواز شام 5 بجے(مقامی وقت) کے قریب پہنچی۔ اس کے بعد مسافر دبئی سے فلائی دبئی کی ایک دوسری پرواز ایف زیڈ۔441 سے روانہ ہوئے جو اتوار کی صبح نئی دہلی پہنچی۔دہلی پہنچنے پر طلباء اور دیگر مسافروں نے راحت کی سانس لی۔ جنگ اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان کئی دنوں کے تناؤ کے بعد بحفاظت گھر واپس آنے پر ان کے چہرے واضح طور پر خوشی سے بھرے ہوئے تھے۔ کچھ طالب علموں کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے کچھ دنوں سے صورتحال سے مسلسل پریشان تھے اور ہندوستان واپسی کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس یونین نے اس پورے عمل میں ہندوستانی سفارت خانوں اور متعلقہ ایجنسیوں کے تعاون کی ستائش کی۔ یونین نے کہا کہ طلباء کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی گئیں اور یہ مشن بالآخر کامیاب رہا۔ ذرائع کے مطابق کچھ ہندوستانی شہری اور طالب علم ایران میں موجود ہیں اور ان کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومت اور انڈین مشن علاقے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر دیگر ہندوستانیوں کو بھی محفوظ طریقہ سے نکالا جا سکے۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *