Thu. Mar 5th, 2026

عثمانیہ یونیورسٹی کے لاء امتحانات، دو امتحانات ایک ہی نوعیت کے سوالات – Siasat Daily

sharavan


کانگریس حکومت میں تعلیمی نظام بدعنوانیوں کا شکار، داسوجو شراون کا الزام

حیدرآباد۔ 4 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ایم ایل سی داسوجو شراون نے الزام عائد کیا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں پانچ سالہ لاء کورس اور تین سالہ لاء کورس آنرز کے لئے منعقد کئے گئے حالیہ امتحانات میں ایک ہی نوعیت کا سوالیہ پرچہ دیا گیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ کی 25 تاریخ کو ایک کورس اور 27 تاریخ کو دوسرے کورس کا امتحان منعقد ہوا۔ مگر دونوں امتحانات میں تقریباً ایک جیسے سوالات شامل تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ مختلف کورسیس کے امتحانات میں ایک ہی طرح کا سوالیہ پرچہ دیا جائے۔ داسوجو شراون نے کہا کہ اس سے بڑا اور کیا ثبوت چاہئے کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے دور حکومت میں تعلیمی نظام بدعنوانی کا شکار ہوچکا ہے۔ اگر حکومت اس طرح کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہے تو ذمہ داروں کو اپنے عہدوں سے استعفی دے دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں کے لئے ٹنڈرس ایسی کمپنیوں کو دیئے جارہے ہیں جو گجرات جیسی ریاستوں میں بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ داسوجو شراون نے کہا کہ گروپ I امتحانات میں بھی متعدد غلطیاں سامنے آئی ہیں مگر حکومت صرف عدالتی فیصلے کا سہارا لے کر ان غلطیوں کو درست کرنے سے گریز کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاردا پیٹھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اسے بلڈوزر سے منہدم کرنے کی بات کی گئی تھی مگر ہریش راؤ کے دورے کے بعد اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔ انہوں نے ایجوکیشن کمیشن کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کچرے دان میں ڈال دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ 2



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *