l صیہونی ملک آبادی کے تناسب کو مستقلاً تبدیل کرنے کوشاں l یو این انسانی حقوق شعبہ کے سربراہ وولکر ترک کا تشویشناک بیان
نیویارک ۔ 27 فبروری (ایجنسیز) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق شعبے کے سربراہ وولکر ترک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی اقدامات پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی اسرائیل آبادی کے تناسب کے اعتبار سے ہمیشہ کے لیے بڑی تبدیلیاں کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار جمعرات کے روز جنیوا میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ و مغربی کنارے میں اس سلسلے میں جو کارروائیاں کی جا رہی ہیں یہ نسلی صفائی کے زمرے میں آتی ہیں اور اس پر ہر جگہ تشویش بڑھ رہی ہے۔وولکر ترک نے اس سلسلے میں حالیہ ایک برس کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا بطور خاص ذکر کیا۔ جن کے نتیجے میں مغربی کنارے کے صرف شمالی حصے میں 32000 فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا مغربی کنارے کے شمالی حصے کے علاوہ پورے بدوؤں کے علاقے میں اسرائیلی فوج کی طرف سے کارروائیاں کر کے خوف کی فضا پیدا کرنے میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی یہودی آباداکاروں کی پرتشدد کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ رام اللہ اور وادی اردن کے علاقے راز عین العوجہ میں یہ کارروائیاں اس سال کے شروع سے جاری ہیں۔یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں کے علاوہ خیمے بھی جلا دیے ہیں۔ تازہ کارروائی میں مقامی فلسطینی اس امر کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ مختلف دیہاتوں میں یہودی آباداکروں کی کارروائیاں فلسطینیوں کے خلاف شدومد سے جاری ہیں۔یاد رہے مغربی کنارے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں جبکہ یہودی آبادکاروں کی تعداد 5 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔بین الاقوامی قانون کے مطابق یہودی آباداکاروں کے لیے قائم کی گئی بستیاں غیر قانونی ہیں۔اسرائیل نے اسی مہینے اپنی کابینہ کے ذریعے مغربی کنارے کے لیے نئے اقدامات کی منظوری دی ہے۔ جس میں یہودی آبادکاروں کو زمینوں پر قبضے بڑھانے کے لیے زمینوں کی خریداری آسان تر کر دی گئی ہے۔ان اقدامات کی حماس کے علاوہ دنیا بھر سے مذمت کی گئی ہے۔ ان مذمت کرنے والے ملکوں میں مشرق وسطیٰ کے عرب ملک، ایشیائی ملک اور کئی یورپی ملک بھی شامل ہیں۔موجودہ اسرائیلی حکومت جس میں انتہا پسند جماعتیں اتحادی کے طور پر موجود ہیں نے 2025 کے دوران 54 یہودی بستیوں میں توسیع کی منظوری دی ہے۔ یہ بات اسرائیلی آبادکاریوں سے متعلق قائم ایک این جی او ‘پیس ناؤ’ نے کہی ہے۔اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 میں قبضہ کیا تھا اور اب اس کو مستقلاً اپنے ساتھ ضم کرنے کی کوشش میں تیزی لا رہا ہے۔اسرائیل نے اپنی مسلسل اور شدید کارروائیوں کے ذریعے مغربی کنارے اور غزہ میں تباہی کی ایسی پالیسی جاری رکھی ہوئی ہے جس کا مقصد مغربی کنارے اور غزہ سے زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کو نکالنا اور ان کی زیادہ سے زیادہ زمینوں پر قبضہ کرنا ہے۔ تاکہ ان دونوں فلسطینی علاقوں میں آبادی کے تناسب پر اثر انداز ہو سکے۔
سعودی عرب کا غزہ پٹی میں نیا غذائی منصوبہ
ریاض ۔ 27 فبروری (ایجنسیز) شاہ سلمان مرکز برائے انسانی امداد و خدمات نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے لیے گرم کھانا تیار کرنے کے لیے سینٹرل کچن کا افتتاح کر دیا ہے۔ یہ اقدام سینٹرل کچن کی ترقی اور اسے فعال کرنے کے منصوبے کے ذریعے کیا گیا ہے، جو غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کی امداد کے لیے سعودی عوامی مہم کے تحت سعودی سینٹر فار کلچر اینڈ ہیریٹیج کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ غزہ کی پٹی میں ایک مربوط سینٹرل کچن کو ترقی دیتا ہے تاکہ رمضان المبارک کے آغاز سے روزانہ (24,000) گرم کھانے تیار کیے جا سکیں، جس سے غزہ کی پٹی کے علاقوں دیر البلح اور القرارہ میں بے گھر اور متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کیے جانے والے کھانوں کی کل تعداد (3,600,000) تک پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطینی عوام کی مدد کے لیے کھانا کھلانے کے عمل میں عطیہ دہندگان کو بھی شامل کیا جائے گا۔مزید برآں یہ منصوبہ انھیں بے گھر خاندانوں کی تکالیف کم کرنے اور یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینے میں براہ راست حصہ لینے کے قابل بناتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سینٹرل کچن کو ترقی دینے اور اسے فعال کرنے کا مقصد منصوبے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی اس کے کام کے تسلسل کو یقینی بنانا ہے تاکہ یہ فلسطینی خاندانوں کے لیے غذائی امداد کا ذریعہ بنا رہے۔ اس عمل میں تیاری، پیداوار اور تقسیم کے تمام مراحل میں اعلیٰ ترین صحت کے معیارات پر عمل درآمد کے ذریعے خوراک کے معیار اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور انتہائی ضرورت مند خاندانوں تک متوازن گرم کھانوں کی رسائی ممکن بنائی جائے گی۔
