Wed. Feb 11th, 2026

’لوگ ہمیں ووٹ دیں گے‘: بنگلہ دیش انتخابات میں فتح کے لیے طارق رحمان پُراعتماد

392528 807107152


بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان نے منگل کو ڈھاکہ میں کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ لوگ انہیں ووٹ دیں گے اور ان کی پارٹی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرے گی۔

طارق رحمان تقریباً دو دہائیوں سے خودساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے ہیں، یہ انتخابات ایک ایسے نظام کی تبدیلی کے بعد ہو رہے ہیں جس نے برسوں تک ان کے حامیوں کے ووٹ کے حق کو محدود کیے رکھا۔

انہوں نے ڈھاکہ میں عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’بی این پی ملک کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ ہم گزشتہ 17 برسوں سے عوام کے ووٹ کے حق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم عوام کی توقعات اور امنگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا’مجھے یقین ہے کہ لوگ ہمیں ووٹ دیں گے اور ان شااللہ ہم واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کریں گے۔‘

طارق رحمان 2008 میں بنگلہ دیش چھوڑ کر لندن منتقل ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران مختلف مقدمات قائم کیے گئے، جو بی این پی کی سخت ترین سیاسی مخالف سمجھی جاتی تھیں۔ شیخ حسینہ وسط 2024 تک اقتدار میں رہیں، تاہم بعد ازاں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

طارق رحمان دسمبر کے اواخر میں بنگلہ دیش واپس لوٹے، جہاں ایئرپورٹ سے ڈھاکہ کے وسط تک ان کے استقبال کے لیے لاکھوں افراد سڑکوں پر موجود تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عوام انتخابات میں ان کی جماعت کی حمایت کریں گے۔

60 سالہ طارق رحمان، بی این پی کے بانی ضیاء الرحمٰن کے صاحبزادے ہیں، جو 1971 کی جنگِ آزادی کے ہیرو تھے اور 1977 میں صدر بنے۔ 1981 میں ان کے قتل کے بعد طارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیاء نے پارٹی کی قیادت سنبھالی اور 1991 میں ملک کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بنیں۔

طارق رحمان نے والدہ کے انتقال کے چند ہی دن بعد بنگلہ دیش واپسی پر فوراً بی این پی کی قیادت سنبھالی۔

جمعرات کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی کا مقابلہ مزید 50 جماعتوں سے ہو گا، جن میں بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی بھی شامل ہے، جس کے بارے میں اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ وہ نئی حکومت میں بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھرے گی۔

معزول وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ پابندی اگست 2024 میں ہونے والے پُرتشدد احتجاج کے بعد لگائی گئی، جس کے نتیجے میں عوامی لیگ اقتدار سے بے دخل ہو گئی تھی۔

نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت، جسے عام انتخابات کی تیاری کی ذمہ داری دی گئی ہے، نے قومی سلامتی اور پارٹی قیادت کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے مطابق سابق حکومت اور اس کے سیکیورٹی اداروں نے 15 جولائی سے 5 اگست 2024 کے دوران طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو کچلنے کے لیے منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں، جن میں اندازاً 1400 افراد ہلاک ہوئے۔

طارق رحمان کا کہنا ہے کہ اگر وہ انتخابات جیتتے ہیں تو ان کی حکومت سابق قیادت کا احتساب کرے گی اور اس نوجوان تحریک کی سیاسی اور معاشی توقعات کو پورا کرے گی جس نے ملک میں تبدیلی کی راہ ہموار کی۔

اپنے ابتدائی چھ ماہ کے ایجنڈے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کی اولین ترجیحات میں قانون کی بالادستی کی بحالی، جمہوری اصلاحات اور کاروبار دوست ماحول کا قیام شامل ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہمارے 180 روزہ پروگرام میں اہم شعبوں میں ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، جن کے تحت ایک کروڑ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم نجی شعبے کی ترقی کو تیز کریں گے، روزگار پر مبنی معاشی بحالی کو یقینی بنائیں گے اور بلیو اکانومی کو فروغ دیں گے۔ ہم آئی سی ٹی سیکٹر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی میں جدت پر خصوصی توجہ دیں گے۔‘

بین الاقوامی تعاون کے حوالے سے طارق رحمان نے کہا کہ ان کی ترجیح خلیجی تعاون کونسل کے ممالک، خصوصاً سعودی عرب، کے ساتھ شراکت داری ہو گی، جہاں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کے دورِ حکومت میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات قائم ہوئے تھے، اور اگر وہ وزیرِاعظم بنے تو سعودی عرب ان کے ابتدائی دوروں میں شامل ہو گا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا ’سب سے زیادہ بنگلہ دیشی محنت کش سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں اور ان کی بھیجی گئی ترسیلات زر ہماری معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں سعودی وژن 2030 کا معترف ہوں اور سعودی عرب کی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہوں۔ میں یقیناً اپنے دورِ حکومت کے آغاز میں سعودی عرب کا دورہ کرنا چاہوں گا۔ ذاتی طور پر میری خواہش ہے کہ مسجد الحرام، مکہ مکرمہ جا کر عمرہ ادا کروں۔‘

دیگر ممالک خصوصاً خطے کی طاقتوں پاکستان اور انڈیا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بی این پی حکومت کی خارجہ پالیسی قومی مفاد پر مبنی ہو گی، جو کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔

انہوں نے کہا ’ہم اپنے تمام غیر ملکی دوستوں، بالخصوص ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم برابری، تعاون اور دوستی پر مبنی تعلقات قائم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ان تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور افہام و تفہیم ہو گی، جو ہمارے مشترکہ ترقی کے ضامن ہوں گے۔‘

بنگلہ دیش سے پاکستان کے تعلقات شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد بہتر ہوئے ہیں، جب کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی آئی ہے، جہاں شیخ حسینہ 2024 کے احتجاج کے بعد پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں۔

نومبر میں ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے سابق وزیرِاعظم کو انسانیت کے خلاف جرائم میں مجرم قرار دیا، جس کے بعد بنگلہ دیش نے انڈیا سے ان کی حوالگی کی درخواست کی۔

طارق رحمان نے کہا: ’ہم ملک میں انصاف قائم کرنا چاہتے ہیں۔ قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔ جس نے بھی جرم کیا ہے اسے عدالت کا سامنا کرنا ہو گا۔ یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کا سوال ہے۔‘

شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں طارق رحمان کے خلاف بدعنوانی کے متعدد مقدمات قائم کیے گئے، جنہیں انہوں نے سیاسی بنیادوں پر قائم کردہ الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

انہوں نے کہا ’میرے خلاف بے شمار جھوٹے مقدمات درج کیے گئے اور ملک میں قانون و امن کی صورتحال بھی مستحکم نہیں تھی۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، جیسا کہ میں نے اپنے ہم وطنوں سے وعدہ کیا تھا، میں تاریخی قومی انتخابات سے قبل اپنے پیارے بنگلہ دیش واپس آ گیا ہوں اور اب بے چینی سے آگے کا انتظار کر رہا ہوں۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *