پاکستان کی وفاقی حکومت نے اتوار کو ملک میں لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر پیٹرولیم لیوی میں 300 روپے فی لیٹر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں اتوار کو وڈیو لنک پر ہونے والے ایک اجلاس میں امیر ترین طبقے کے زیر استعمال پر تعیش (لگژری) گاڑیوں پر لیوی، جو کہ 100 روپے فی لیٹر ہے، میں 200 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ مہنگی ترین گاڑیوں میں ڈلنے والے ہائی آکٹین ایندھن پر اب سے 300 روپے فی لیٹر لیوی کا اطلاق ہو گا۔
بیان میں بتایا گیا کہ اس فیصلے سے حکومت کو 9 ارب روپے ماہانہ بچت ہو گی اور وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق عوام کو اس بچت سے ریلیف دیا جائے گا۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا کہ اس فیصلے سے معیشت پر بوجھ کم ہو گا اور ملک کا امیر ترین طبقہ یہ بوجھ اٹھائے گا۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں مزید بتایا گیا کہ اس فیصلے سے پبلک ٹرانسپورٹ اور ہوائی جہازوں کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو سرکاری ٹی وی چینل پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسی خطاب میں انہیں نے متعلقہ حکام اور وزارتوں کو ہدایت کی تھی کہ ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی سے کم آمدنی والے طبقوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے اور اس کا بوجھ معاشے میں خوشحال طبقات پر ڈالا جانا چاہیے۔
