Wed. Feb 18th, 2026

مذاکرات یا مزاحمت: پی ٹی آئی رہنماؤں کے اختلافات ختم کر کے متحد ہو پائے گی؟

392738 1674355758


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما گذشتہ کچھ روز سے میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک طرف عمران خان کی بہنیں تو دوسری جانب پارٹی رہنما، دونوں طرف مذاکرات یا مزاحمتی سیاست کے حوالے سے منقسم رائے سامنے آنے پر حجان کی کیفیت بنتی جا رہی ہے۔ جبکہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو آنکھوں کے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی احتجاج بھی کر رہی ہے۔

سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ویسے تو نئی بات نہیں۔ ہر دور میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان مختلف رائے کی موجودگی ہی جمہوریت کا حسن کہلاتی ہے۔

لیکن تحریک انصاف میں بڑے پیمانے پر رہنماؤں میں اختلافات کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں وزارت اعلیٰ بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ دوسری جانب بار بار احتجاج کی کال کے باوجود عمران خان کو بھی پارٹی ریلیف دلوانے میں کامیاب دکھائی نہیں دیتی۔

مرکزی ترجمان پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بدھ کو گفتگو میں کہا کہ ’سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور، جنید اکبر سمیت جو رہنما بھی اختلافی بیانات دے رہے ہیں۔ انہیں عمران خان کی ہدایت یاد رکھنا ہوگی کہ کوئی پارٹی رہنما یا کارکن پارٹی قیادت اور عہدیداروں کے فیصلوں کا پابند ہے۔

’جو رہنما پارٹی کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرے گا اس کے خلاف سیکریٹری جنرل سلمان اکرم کے پاس کارروائی کا اختیار موجود ہے وہ اس معاملے کو دیکھیں گے۔‘

علیمہ خان نے بھی بدھ کو اپنے میڈیا بیان میں کہا کہ ’اختلاف رائے ہر پارٹی میں ہوتا ہے لیکن پی ٹی آئی رہنماؤں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے اختلافات نہیں ہیں۔ سب رہنما اور عہدیدار اپنا سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں۔ سب عمران خان کی قیادت میں متحد ہیں۔ لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پارٹی میں اختلافات ہیں۔‘

سیاسی تجزیہ کار سلیم بخاری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’تحریک انصاف ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی ہے وہ عمران خان خود ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے وہ سیاسی راستے نکالنے کی بجائے اسٹیبلشمنٹ سے ہی بات کرنے پر بضد ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’حالانکہ ڈی جی آئی ایس پی آر کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ادارے کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔ اختلافات اس لیے دوسری جماعتوں سے مختلف سامنے آ رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو استعمال کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔‘

چوتھے سابق وزیر اعلیٰ بھی تحفظات کا شکار کیوں؟

سلیم بخار کے بقول ’عمران خان نے پہلے پرویز خٹک کو وزیر اعلیٰ بنایا پھر محمود خان کو، عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا آج وہ بھی ساتھ نہیں۔ اس کے بعد علی امین گنڈا پور کو بنایا اور کئی بار کہا ان پر قیادت کو پورا اعتماد ہے۔ لیکن پھر انہیں بھی نکال دیا آج وہ بھی پارٹی پالیسیوں پر اختلاف کر رہے ہیں۔ کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ مذاکرات کی راہ میں خود پارٹی کے لوگ حائل ہیں۔ اسی طرح جہانگیر ترین اور علیم خان سمیت کئی رہنماوں کو استعمال کر کے چھوڑ دیا۔

’لہذا جب تک بانی پی ٹی آئی خود سیاسی مفاہمت اور مذاکرات کے لیے اپنی پارٹی کے عہدیداروں پر اعتماد نہیں کریں گے۔ ان کے نہ سیاسی حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں اور نہ پارٹی منظم و مضبوط ہوسکتی ہے۔‘

آئندہ کا ممکنہ لائحہ عمل

وقاص اکرم کے بقول، ’ہم نے بدھ کی شام جنرل سیکرٹری کی صدارت میں اعلیٰ سطحی پارٹی رہنماؤں کا اجلاس بلایا ہوا ہے، جس میں پچھلے ہفتے ہونے والے معاملات اور ان کے حل پر غور ہوگا۔

’ہماری سب سے اہم ترجیح سیاست نہیں بلکہ عمران خان کی صحت ہے۔ جب علمیہ خان کہ چکی ہیں کہ عمران خان کی صحت تسلی بخش نہیں تو سب سے پہلے یہ مسئلہ حل کرنا ہے۔ اجلاس میں اس حوالے سے بھی آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جائے گا۔‘

سلیم بخاری کہتے ہیں کہ ’عمران خان کی صحت کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کوئی پارٹی رہنما یا ان کی بہنیں اس بارے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتیں۔ ڈاکٹروں کی رائے کو پس پشت ڈال کر اپنی طرف سے بیانیے بنائے جارہے ہیں۔

’یہ اس لیے بھی غیر سنجیدگی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے پی ٹی آئی ذمہ داروں نے خود افواہ پھیلائی کہ عمران خان جیل میں شاید مار دیے گئے ہیں۔ اس قسم کی غیر سنجیدگی کے باعث اگر حقیقت میں بھی کوئی بیمار ہو تو یقین نہیں کیا جا سکتا۔‘





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *