نئی دہلی۔ 12 فروری ( یو این آئی) مرکزی ٹریڈ یونینوں کی اپیل پر جمعرات کو نئے لیبر قوانین اور مرکز کی مبینہ ’مزدور مخالف‘ پالیسیوں کے خلاف بلائی گئی ملک گیر عام ہڑتال کا مختلف ریاستوں میں ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔ جہاں جنوبی ریاستوں بالخصوص کیرالہ میں ہڑتال کے باعث عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی، وہیں شمالی ریاستوں میں عام زندگی متاثر ہوئی۔ملک کی تقریباً 12 بڑی ٹریڈ یونینوں (بشمول سی آئی ٹی یو،اے آئی ٹی یو ای ،آئی این ٹی یو سی ،سی آئی ٹی یو اور ایچ ایم ایس) نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔ مظاہرین نے چاروں لیبر کوڈز کی واپسی، بجلی ترمیمی بل اور مجوزہ ڈرافٹ سیڈ (بیج) بل کو منسوخ کرنے ، منریگا کی بحالی اور سرکاری اداروں کی نجکاری پر روک،پرانی پنشن اسکیم کی بحالی اور تنخواہوں کا تحفظ۔ سمیت متعدد مطالبات پیش کئے ۔ ٹریڈ یونینوں نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں مرحلہ وار تحریک تیز کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر کیرالہ میں رہا جہاں پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہی۔ دکانیں، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے اور سڑکوں پر سناٹا چھایا رہا۔ پنجاب میں بینک ملازمین اور کسان تنظیموں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا، تاہم بس سروس اور بازار بڑی حد تک کھلے رہے ۔ ہریانہ کے بہادر گڑھ اور جھجر میں آنگن واڑی اور میونسپل ملازمین نے دھرنا دیا، لیکن روڈ ویز کی بسیں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔ الور (راجستھان) میں روڈ ویز ملازمین نے احتجاج کیا جبکہ ایل آئی سی ملازمین نے انشورنس سیکٹر میں 100 فیصد ایف ڈی آئی کے خلاف نعرے بازی کی۔ ہماچل اور جموں و کشمیر میں بجلی کے لاکھوں ملازمین نے کام کا بائیکاٹ کر کے نجکاری کے خلاف ریلیاں نکالیں۔بھوپال، اندور اور جبل پور سمیت کئی اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ دفاعی فیکٹریوں کے باہر ملازمین نے کام روک کر اپنا احتجاج درج کرایا۔ٹاملناڈو میں ٹرانسپورٹ اور زندگی معمول کے مطابق رہی، جبکہ تلنگانہ کے بعض حصوں میں بسوں اور آٹو رکشوں کی آمد و رفت متاثر ہونے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔یونین لیڈروں کا الزام ہے کہ نئے لیبر قوانین مزدوروں کے حقوق کو کمزور کرتے ہیں اور مالکان کو ملازمین کی چھنٹی کیلئے کھلی چھوٹ دیتے ہیں۔
