Mon. Mar 16th, 2026

’منوسمرتی کے مطابق ملک چلانے کی سوچ قوم کی یکجہتی کیلئے زہر‘ – Siasat Daily


امریکی سفارشات کے بعد آر ایس ایس کے خلاف پابندی سمیت مختلف اقدامات پر غور کرنے کانگریس کا بیان
نئی دہلی : 16 مارچ (ایجنسیز) کانگریس نے امریکی کمیشن کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے آر ایس ایس پر تنقید کی۔ پارٹی نے کہا کہ آئین کی مخالفت اور منوسمرتی کے مطابق ملک چلانے کی سوچ قوم کی یکجہتی کے لیے زہر ہے۔ کانگریس نے ایک ایکس پوسٹ میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی ایک سفارش کا حوالہ دیتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اس امریکی کمیشن نے امریکی حکومت کو سفارش کی ہے کہ آر ایس ایس کے خلاف پابندی سمیت مختلف اقدامات پر غور کیا جائے۔کانگریس کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ آر ایس ایس مذہبی آزادی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کمیشن نے امریکی انتظامیہ کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ آر ایس ایس کے ارکان کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے اور تنظیم سے وابستہ افراد کے اثاثوں کے خلاف کارروائی جیسے اقدامات پر غور کیا جائے۔پارٹی نے اپنی پوسٹ میں اس بات پر زور دیا کہ یہ سفارشات ایک امریکی سرکاری ادارے کی جانب سے سامنے آئی ہیں۔ کانگریس کے مطابق کمیشن نے اپنی رپورٹ میں مذہبی آزادی سے متعلق خدشات کا ذکر کرتے ہوئے ایسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔کانگریس نے اس معاملے کو تاریخی پس منظر سے بھی جوڑتے ہوئے یاد دلایا کہ مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر پابندی عائد کی تھی۔ پوسٹ میں کہا گیا کہ اس وقت حکومت نے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا تھا۔اپنی پوسٹ میں کانگریس نے آر ایس ایس کے نظریاتی مؤقف پر بھی تنقید کی۔ پارٹی نے کہا کہ جو تنظیم آئین کی مخالفت کرتی ہے اور ملک کو منوسمرتی کے مطابق چلانے کی وکالت کرتی ہے وہ اس قوم کی یکجہتی اور بھائی چارے کے لیے زہر ہے۔ کانگریس کے مطابق ہندوستان کا آئینی ڈھانچہ اور جمہوری نظام ہی ملک کے اتحاد اور تنوع کی بنیاد ہے۔واضح رہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ایک آزاد ادارہ ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں مذہبی آزادی کی صورت حال کا جائزہ لے کر امریکی حکومت کو سفارشات پیش کرتا ہے۔
تاہم اس ادارے کی سفارشات پر عمل کرنا یا نہ کرنا امریکی حکومت کے اختیار میں ہوتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا کے ادارے یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر ایک اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی قوانین اور سماجی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کو عدم تحفظ کا سامنا ہے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں پہلی بار ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور خفیہ ایجنسی را کے خلاف سخت اقدامات کی سفارش کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اداروں کے مبینہ کردار کے باعث امریکا کو ان کے اثاثے منجمد کرنے اور ذمہ دار افراد پر سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے۔رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ہندو انتہا پسند ہجوم کی جانب سے مسلمانوں اور عیسائیوں پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں جبکہ کئی مواقع پر ریاستی اداروں کی جانب سے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔



Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *