|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو 20 دن سے زیادہ ہو چکے ہیں اور یہ اب بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس |
رات 12 بج کر 25 منٹ: نطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران ہفتے کو اسرائیل اور ایران کے درمیان جوہری مقامات پر حملوں کا تبادلہ ہوا۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کا کہنا ہے کہ جنوبی اسرائیل کے شہر ڈیمونا، جہاں ایک جوہری تنصیب موجود ہے، پر میزائل حملہ اس کے نطنز جوہری مرکز پر پہلے کیے گئے حملے کا ’جواب‘ ہے۔
ایران کی جوہری توانائی تنظیم نے کہا ہے کہ ’نطنز افزودگی کمپلیکس کو آج صبح نشانہ بنایا گیا‘، تاہم مقامی میڈیا کے مطابق کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ میزائل دیمونا میں ایک عمارت پر براہ راست گرا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم 39 افراد زخمی ہوئے۔
دیمونا شہر صحرائے نیگیو میں واقع ہے اور اس کے قریب اسرائیل کی ایک اہم جوہری تنصیب موجود ہے، جسے وسیع پیمانے پر مشرق وسطیٰ کا واحد غیر اعلانیہ جوہری ہتھیاروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران میں ایک ایسی تنصیب کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے اجزا تیار کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ تنصیب ’ملک اشتر یونیورسٹی‘ کے اندر قائم تھی، جسے ایرانی فوجی صنعتوں اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک قرار دیا گیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ ایرانی وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے اور اس پر عالمی پابندیاں بھی عائد ہیں۔
رات 11 بج کر 15 منٹ: برطانوی اڈے ’‘جارحانہ کارروائیوں‘ کے لیے استعمال نہیں ہوں گے: قبرص
قبرص حکومت کے ترجمان کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈس کو یقین دہانی کرائی ہے کہ قبرص میں برطانیہ کے فوجی اڈے ایران سے متعلق کسی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ قبرص کی سلامتی برطانیہ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور اسی مقصد کے تحت پہلے سے موجود حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وسائل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے تحریری بیان کے مطابق کیئر سٹارمر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ قبرص میں برطانیہ کے فوجی اڈے کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ روئٹرز
رات ساڑھے نو بجے: وسیع علاقائی تنازع روکنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو روکنا ضروری: ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ جنگ اور وسیع تر علاقائی تنازعے کے خاتمے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت میں فوری روک تھام ضروری ہے۔
یہ بات ایران کے انڈیا میں سفارت خانے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہی۔
بیان میں بتایا گیا کہ صدر پزیشکیان نے آج انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
بیان کے مطابق صدر پزیشکیان نے وزیر اعظم مودی کو بتایا کہ ایسی جارحیت کے دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس ضمانتیں ضروری ہیں۔
انہوں نے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ ’برکس‘ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف جارحیت کے خاتمے کے لیے آزادانہ کردار ادا کرے۔
ایرانی صدر نے مغربی ایشیائی ممالک پر مشتمل ایک علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کی بھی تجویز پیش کی، تاکہ بیرونی مداخلت کے بغیر خطے میں امن یقینی بنایا جا سکے۔ روئٹرز
رات 8 بج کر 45 منٹ: کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھیں گے، شہباز شریف کی بحرین کے شاہ کو یقین دہانی
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو بحرین کے شاہ حماد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں کہا کہ پاکستان خطے میں جاری صورت حال کے تناظر میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی، بالخصوص بحرین پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کے لیے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے بحرین کی جانب سے صبر و تحمل کے مظاہرے کو سراہتے ہوئے مشکل وقت میں پاکستان کی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کیا۔
Spoke with my brother His Majesty King Hamad bin Isa Al Khalifa to convey warm Eid-ul-Fitr greetings to him and the people of Bahrain.
I reiterated Pakistan’s strong condemnation of the ongoing hostilities in the region, particularly the attacks against Bahrain, and extended my…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 21, 2026
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور بات چیت کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘
وزیراعظم نے بحرین کے شاہ کو یقین دلایا کہ پاکستان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر انہپیں عیدالفطر کی مبارک باد بھی پیش کی۔
دونوں رہنماؤں نے امت مسلمہ میں اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے دعا بھی کی اور دوطرفہ و علاقائی امور پر قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
رات سات بجے: 20 ممالک کا آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کا اعلان
بیس سے زائد ممالک نے تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس اہم سمندری راستے کو محفوظ گزرگاہ بنانے کے لیے اقدامات میں تعاون کا اعلان کیا ہے
ان ممالک نے ایک بیان میں کہا ’ہم ایران کی جانب سے خلیج میں غیر مسلح تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں، شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں اور ایرانی فورسز کی جانب سے ہرمز کو عملی طور پر بند کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘
یہ 22 ممالک زیادہ تر یورپی ہیں جبکہ اس میں متحدہ عرب امارات اور بحرین بھی شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ’ہم اس اہم سمندری راستے میں محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات میں تعاون کے لیے تیار ہیں اور ہم ان ممالک کے عزم کو سراہتے ہیں جو تیاری میں مصروف ہیں۔‘
امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد سے تہران نے نہ صرف اپنے خلیجی ہمسایوں بلکہ ہرمز میں موجود جہازوں پر بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
یکم تا 19 مارچ کے دوران اینالٹکس فرم کیپلر کے مطابق صرف 116 کمرشل جہازوں نے ہرمز کو عبور کیا، جو امن کے معمول کے اوسط کے مقابلے میں 95% کمی ہے۔
ایران کی عملی طور پر ہرمز کی ناکہ بندی اور مشرق وسطیٰ میں تیل و گیس کے انفراسٹرکچر پر متعدد حملوں نے توانائی کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔
ممالک نے مزید کہا ’ہم شہری انفراسٹرکچر بشمول تیل و گیس کی تنصیبات پر حملوں پر فوری جامع پابندی کے لیے اپیل کرتے ہیں۔‘
دن 3 بج کر 25 منٹ
ایران کی نطنز جوہری تنصیب پر حملہ، ’تابکاری نہیں ہوئی‘
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی میزان نے ہفتے کو رپورٹ کیا کہ ایران کی نطنز جوہری تنصیب ایک فضائی حملے کا نشانہ بنی ہے۔ تاہم اس واقعے میں تابکاری کا کوئی اخراج نہیں ہوا۔
ایران کی مرکزی یورینیم افزودگی کی جگہ نطنز امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے پہلے ہفتے میں بھی حملے کا نشانہ بنی تھی اور سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق وہاں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے بتایا کہ اس حملے سے ’کسی قسم کے تابکاری اثرات‘ کی توقع نہیں۔
یہ جوہری تنصیب تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور اس سے قبل جون 2025 میں ایران اور اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں اور امریکہ کے حملوں کا بھی نشانہ بن چکی ہے۔ اے پی
دن 11 بج کر 25 منٹ
متنازع جزیروں پر حملے کے سنگین نتائج ہوں گے: ایران کی یو اے ای کو تنبیہ
ایران کی فوج نے ہفتے کو متحدہ عرب امارات کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین سے خلیج میں واقع متنازع جزیروں پر کوئی حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ جزائر آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں جو ایک اہم سٹریٹجک گزرگاہ ہے۔
فوجی بیان کے مطابق: ’ہم متحدہ عرب امارات کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس کی سرزمین سے ایرانی جزائر ابو موسیٰ اور گریٹر تنب کے خلاف مزید کسی جارحیت کا آغاز ہوا تو ایران کی طاقتور مسلح افواج متحدہ عرب امارات کی ریاست رأس الخیمہ کو شدید حملوں کا نشانہ بنائیں گی۔‘
یہ بیان ایران کے فوجی آپریشنل کمانڈ ’خاتم الانبیا‘ کی جانب سے جاری کیا گیا، جسے خبر رساں ادارے تسنیم نے نشر کیا۔
صبح 10 بجے
مشرق وسطیٰ کارروائیاں ’سمیٹنے‘ پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ
امریکہ کے صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو’سمیٹنے‘ پر غور کر رہے ہیں جب کہ امریکہ نے تیل کی فراہمی کے عالمی بحران کو روکنے کے لیے ایرانی تیل کی ترسیل پر عائد پابندیوں میں عارضی طور پر نرمی کر دی ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکہ ’اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بہت قریب پہنچ رہا ہے جب کہ ہم مشرق وسطی میں اپنی عظیم فوجی کوششوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں۔‘
ان کی یہ پوسٹ اب تک کا سب سے قوی اشارہ تھی کہ وہ 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی کو جلد ختم کرنے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے اس اہم بیان میں کہا کہ ’ہم ایران کی دہشت گرد حکومت کے حوالے سے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عظیم فوجی کارروائیوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ ہم اپنے اہداف کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔‘
انہوں نے کہا:
(1) ایران کی میزائل صلاحیت، لانچرز اور اس سے متعلق ہر چیز کو مکمل طور پر ناکارہ بنانا۔
(2) ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو تباہ کرنا۔
(3) ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو ختم کرنا، بشمول فضائی دفاعی نظام۔
(4) ایران کو کبھی بھی جوہری صلاحیت کے قریب نہ آنے دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ امریکہ کسی بھی ایسی صورتحال میں فوری اور بھرپور ردعمل دینے کی پوزیشن میں ہو۔
(5) اپنے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادیوں — جن میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور دیگر شامل ہیں — کو اعلیٰ ترین سطح پر تحفظ فراہم کرنا۔
’آبنائے ہرمز کی حفاظت اور نگرانی ان دیگر ممالک کو کرنی ہوگی جو اسے استعمال کرتے ہیں — امریکہ نہیں۔ اگر درخواست کی گئی تو ہم ان ممالک کی مدد کریں گے، لیکن ایران کے خطرے کے خاتمے کے بعد اس کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان کے لیے یہ ایک آسان فوجی آپریشن ہوگا۔‘
صبح 09 بج کر 25 منٹ
سعودی عرب نے مزید 22 ڈرونز مار گرائے
سعودی وزارت دفاع نے ہفتے کو بتایا کہ سعودی عرب نے ملک کے مشرق میں 22 ڈرون روکے۔
سعودی وزارت دفاع نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’مشرقی خطے میں 10 ڈرون کو روکا اور تباہ کر دیا گیا۔‘
وزارت نے بعد ازاں ایک اور پوسٹ میں بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مزید 12 ڈرون مار گرائے۔
