امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی رات اپنے سوشل میڈیا ٹروتھ پر کہا ہے کہ نیٹو کے زیادہ تر اتحادیوں نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’امریکہ کو اپنے زیادہ تر نیٹو اتحادیوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے دہشت گرد نظام کے خلاف ہماری فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہونا چاہتے، حالانکہ تقریباً ہر ملک اس بات سے بھرپور اتفاق کرتا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ درست ہے، اور ایران کو کسی بھی صورت، شکل یا انداز میں جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’میں ان کے اس رویے پر حیران نہیں ہوں کیونکہ میں ہمیشہ نیٹو کو ایک یکطرفہ معاہدہ سمجھتا رہا ہوں، جہاں ہم ہر سال سینکڑوں ارب ڈالر خرچ کر کے انہی ممالک کا دفاع کرتے ہیں، لیکن وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کرتے، خاص طور پر ضرورت کے وقت۔ ہم ان کا تحفظ کریں گے، مگر وہ ہمارے لیے کچھ نہیں کریں گے‘۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’خوش قسمتی سے ہم نے ایران کی فوج کو تباہ کر دیا ہے، اس کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، اس کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، اس کا فضائی دفاعی نظام اور ریڈار ختم ہو چکے ہیں، اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کی قیادت، تقریباً ہر سطح پر، ختم ہو چکی ہے، جو اب ہمیں، ہمارے مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں یا دنیا کو دھمکی دینے کے قابل نہیں رہی‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’چونکہ ہمیں اتنی بڑی فوجی کامیابی حاصل ہو چکی ہے، اس لیے ہمیں اب نیٹو ممالک کی مدد کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ خواہش، ہمیں کبھی ضرورت تھی ہی نہیں۔ اسی طرح جاپان، آسٹریلیا یا جنوبی کوریا کی بھی ضرورت نہیں‘۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’درحقیقت، امریکہ کے صدر کی حیثیت سے، جو دنیا کا سب سے طاقتور ملک ہے، ہم کسی کی مدد کے محتاج نہیں ہیں، ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں‘۔
