
(ویب ڈیسک) نیپال کی پولیس نے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو گزشتہ سال تشدد کرنے والے مظاہرین کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات پر گرفتار کر لیا ۔
ہفتے کے روز یہ گرفتاریاں 2025 کی بغاوت کے بعد ہونے والے الیکشن سے وزیراعظم بننے والے گلوکار بلیندر شاہ اور ان کی کابینہ کی حلف برداری کے ایک دن بعد ہوئی ہیں۔ گزشتہ سال اچانک پھوٹ پرنے والے پرتشدد مظاہروں نے بعد میں ویزراعظم اولی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ان تشدد بھرےاحتجاجوں کے دوران کٹھمنڈو میں نیپال کی پارلیمنٹ اور عدالتوں سمیت بہت سی سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ تشدد کو روکنے کے لئے پولیس نے جو اقدامات کئے ان سے 19 افراد مرے تھے۔ بعد میں فوج کی نگرانی میں الیکشن ہوئے تو کٹھمنڈو کا مئیر بن جانے والے گلوکار بلیندر شاہ نے مئیر کا عہدہ چھوڑ کر سابق وزیراعظم 74 سالہ سینئیر کمیونسٹ رہنما کے پی شرما اولی کے خلاف پارلیمانی الیکشن لڑا اور ان کو ہرا دیا۔ سابق وزیراعظم کا اچانک تختہ الٹے جانے کے بعد یہ سامنے آیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ملنے والی ترغیب سے تشدد کرنے والے نوجوانوں میں لیڈر تو کوئی تھا ہی نہیں۔
تب کٹھمنڈو کے ریپ گلوکار مئیر بلیندر نے خالی جگہ پر کی اور جین زی کے نام سے مشہور نوجوانوں کے لیڈر بن گئے حالانکہ خود ان کی عمر 35 سال سے زیادہ ہے، جین زی کا نعرہ تبدیلی اور “کرپشن کا خاتمہ” تھا۔ اور یہی بلیندر عرف بلین کے سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والے ریپ گانوں کا بھی موضوع رہتا تھا۔
تختہ الٹے جانےسے اب تک سابق وزیراعظم کی کوئی کرپشن کسی تحقیقات میں سامنے تو نہیں آئی لیکن آج انہیں پرتشدد احتجاج کو کریک ڈاؤن کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔
ہمیشہ بوڑھوں کو وزیراعظم چننے والے نیپال کے اب سب سے کم عمر وزیر اعظم نے “اتحاد” کے بارے میں اپنا نیا ریپ گانا جاری کرنے کے بعد کل ہی حلف اٹھایا تھا اور آج 74 سالہ سابق وزیراعظم کو گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران میں سالوں تک نہیں رہیں گے لیکن جنگ ابھی تھوڑی دیر جاری رہے گی، امریکی نائب صدر کی وضاحت
گزشتہ سال سوشل میڈیا پر مختصر پابندی لگنے کے بعد اچانک کٹھمنڈو میں تشدد شروع ہوا اور ایک ہی دن میں پولیس پر حملے کرنے والے 19 افراد کی ہلاکت کے بعد نیپال کی اس وقت کی حکومت کے 4 میں سے 2 وزرا مستعفی ہو گئے تھے جب کہ پرائم منسٹر ہاؤس کے ساتھ کم از کم ایک وزیر کے گھر کو بھی جلایا گیا تھا۔
انتخابی مہم کے آخری دن نیپال کے 4 حریفوں میں سے 3 کی فہرست، وزیراعظم نے شہریوں سے ووٹ ڈالنے کی اپیل کی
کھٹمنڈو وادی پولیس کے ترجمان اوم ادھیکاری نے کہا، “انہیں آج صبح گرفتار کیا گیا اور یہ عمل قانون کے مطابق آگے بڑھے گا۔”
دی کھٹمنڈو پوسٹ کے مطابق 74 سالہ اولی کو دارالحکومت کھٹمنڈو کے نواحی علاقے بھکتا پور میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ بعد میں تصاویر میں اولی کو ایک ہسپتال میں جاگتے ہوئے دکھایا گیا، تمام سادہ لباس اہلکاروں، اور پولیس افسران نے ان کو گھیر رکھا تھا۔
سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو ہفتے کے روز بھکتا پور کے ایک اور علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا۔
فیس بک پر ایک بیان میں، “جین زی حکومت” کے وزیر داخلہ سوڈان گرونگ نے لکھا، “وعدہ ایک وعدہ ہے: کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے”۔
گرونگ نے کہا، “یہ کسی کے خلاف انتقام نہیں ہے، یہ صرف انصاف کی شروعات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ملک اب ” نئی سمت” میں جا رہا ہے،” گرونگ نے کہا۔
اولی نے ابھی تک اپنی گرفتاری کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
نیپال میں اولی کی حکومت نے سوشل میدیا پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش کے ردعمل میں سوشل میدیا پر ہی منظم ہو چکے گروہوں نے ان کے خلاف پر تشدد احتجاج شروع کروا دیئے تھے۔ یہ احتجاج اتنا اچانک، شدید اور پرتشدد تھا کہ پہلے ہی روز 19 افراد پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔ ان پلاکتوں کے بعد تشدد رکنے کی بجائے مزید پھیلا تھا اور 8-9 ستمبر 2025 کو “بدعنوانی کے خلاف بغاوت” میں کم از کم 77 افراد مارے گئے تھے، جو سوشل میڈیا پر ایک مختصر پابندی کے بعد شروع ہوئی تھی ۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کیلئے چاول، سمندری خوراک،ادویات اور متعدد اشیا برآمدکرنےپر اہم رعایات نافذ
یہ بھی پڑھیئے: عطا اللہ تارڑ کی سینئر صحافی رضوان الرحمان کے گھر آمد ، والدہ کے انتقال پر تعزیت
