(ویب ڈیسک) ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا اثر “مجھے راتوں کو جگائے رکھتا ہے۔” میں جانتی ہوں کہ اس کام کو کیسے کرنا ہے۔ اس کے لئے کیا کیا کرنے کی کیا ضرورت ہے: سابق صدر جو بائیڈن کی نائب صدر اور ٹرمپ سے صدارتی الیکشن ہارنے والی کمیلا ہیریس نے آج بتا دیا کہ وہ 2028 میں دوسری بار صدر کا انتخاب لڑنے کے بارے میں کیوں سوچ رہی ہیں۔
سابق نائب صدر کملا ہیرس جمعہ 10 اپریل 2026 کو نیویارک میں نیشنل ایکشن نیٹ ورک کنونشن کے دوران پہنچیں۔
سابق نائب صدر کملا ہیریس نے آج تصدیق کی کہ وہ 2026 کے نیشنل ایکشن نیٹ ورک کنونشن میں 2028 میں صدر کے عہدہ کے لیے ایک بار پھر ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار بننے کی دوڑ میں کودنے کے بارے میں “سوچ رہی ہیں” – یہ کمیلا ہیرس کا اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اپنے اب تک کے سب سے کھلے الفاظ میں اظہار ہے۔
“سنو! میں شاید، میں شاید۔ میں اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ میں اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں،” ہیریس نے یہ جملے تب کہے جب ریور. ال شارپٹن نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ وائٹ ہاؤس کے لئے ایک اور مہم چلانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ہیرس 2024 کے انتخابات میں ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار تھیں اور پاپولر ووٹوں کے معمولی مارجن سے الیکشن ہاری تھیں تاہم الیکٹورل ووٹوں کا فرق خاصا زیادہ نکلا تھا۔
کمیلا ہیرس کے یہ کومنٹ اس بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان آئے ہیں کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کے ساتھ آگے کیا کر سکتی ہیں۔ کمیلا نے اپنی صدارتی مہم کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب 2025 کے آخر میں شائع کی ہے اور اس کے بعد سے وہ اپنی اس کتاب کی تشہیر کے لئے امریکی شہروں کے وزٹ کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکہ مذاکرات کا کامیاب آغاز، نائب صدر جے ڈی وینس بھی اسلام آباد کیلئے چل پڑے
سی این این نے پہلے اطلاع دی تھی کہ ہیریس اس ماہ چار جنوبی ریاستوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پروگراموں میں بھی پیش ہوں گی۔
جبکہ ہیریس نے اگست 2025 میں CBS کے سٹیفن کولبرٹ کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ “سسٹم میں واپس نہیں جانا چاہتیں”، لیکن اس کے بعد انہوں نے گزشتہ سال کے آخر میں اشارہ دیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے لیے ایک اور انتخٓبی مہم چلاسکتی ہیں۔ بی بی سی کی لورا کوئنسبرگ کے ساتھ گفتگو مین انہوں نے واضح کیا تھا کہ “میں نے(صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ) چھوڑا نہیں۔ “
آج جمعہ کے روز، شہری حقوق کی تاریخ میں ڈوبی ہوئی ترقی پسند تنظیمی کانفرنس میں مس کمیلا ہیرس کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا، اس اجتماع میں “دوبارہ لڑو!” کے بلند آواز میں نعرے لگائے گئے، جان نعروں کے سبب انہیں ایک موقع پر اپنے خطاب کو مختصراً روک دینا پڑا۔
“میں (دوبارہ الیکشن کیمپین کرنے) کے بارے میں سوچ رہی ہوں لیکن مجھے یہ بھی کہنے دو۔ میں نے ریاست ہائے متحدہ کی صدارت سے دور دل کی دھڑکن کے طور پر چار سال خدمات انجام دیں،” ہیرس نے کہا۔ “میں نے اپنے ویسٹ ونگ آفس (نائب صدر کا دفتر) میں لاتعداد گھنٹے گزارے، اوول آفس سے قدموں کے فاصلے پر۔ میں نے لاتعداد گھنٹے اوول آفس میں، سیچویشن روم میں گزارے۔ میں جانتی ہوں کہ یہ سب کام کیا ہے۔ اور میں جانتی ہوں کہ اس کی کیا ضرورت ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: خام تیل کی قیمت میں کمی کا رجحان ،نیویارک میں کروڈ آئل کی قیمت گرگئی
انہوں نے “کام جو کرنے کی ضرورت ہے” کو آگے بڑھایا کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ تیسری صدارتی مہم کیا ہو سکتی ہے۔ یہ ممکنہ طور پر ایک پرہجوم میدان کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
“میں پچھلے سال سے ملک کا سفر کر رہی ہوں، میں نے بہت سا وقت جنوب اور بہت سی دوسری جگہوں پر گزارا ہے۔ اور ایک چیز جس کے بارے میں میں واقعی واضح ہوں، وہ ہے جمود کام نہیں کر رہا ہے، اور بہت سارے لوگوں کے لیے کام نہیں کر رہا ہے،” ڈیموکریٹک پارٹی کی سابق نامزد امیدوار برائے صدر نے کہا۔
وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد سے کمیلا ہیریس صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کھلے عام تنقید کرتی رہی ہیں۔
شارپٹن کے ساتھ اپنے سیشن میں، ہیریس نے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے اقدامات، خاص طور پر ایران کے ساتھ جنگ کی مذمت کی، جسے انہوں نے “(ٹرمپ کی) چوائس” قرار دیا۔
یہ دلچسپ ہے کہ کمیلا ہیرس نے 2024 کی صدارتی مہم مین ایران کا ذکر واضح الفاظ میں امریکہ کے لئے چین سے زیادہ بڑے خطرے کی حیثیت سے کیا تھا۔ ٹرمپ نے چین کے ساتھ “دشمنی” پر زیادہ تقریریں کیں، اس کے برعکس کمیلا ہیرس نے بہت واضح الفاظ میں کہا، چین نہیں ایران امریکہ کے لئے زیادہ اہم اور بنیادی پرابلم ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: اسلام آباد امن مذاکرات سے بہت پُرامید، اسرائیل حملے کم کر دے گا:امریکی صدر
جمعہ کی تقریب میں، سابق نائب صدر کمیلا ہیرس نے یہ استدلال کیا کہ ٹرمپ کی بعض اتحادیوں، خاص طور پر نیٹو ممالک کے بارے میں بڑھتی ہوئی تلخی، “دنیا بھر کے اتحادی ممالک کے لوگوں کا ذکر نہ کرنا، امریکہ کے لوگوں کے لیے نقصان دہ ہے، ۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا اثر “مجھے راتوں کو جگائے رکھتا ہے۔”

مِس ہیرس اور ٹرمپ؛ 2024 کے صدارتی الیکشن میں کیا ہوا تھا؟
2024 ریاستہائے متحدہ کے صدارتی انتخابات 5 نومبر 2024 کو ہوئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ (صدر) اور جے ڈی وانس (نائب صدر) کے ریپبلکن ٹکٹ نے کملا ہیرس اور ٹم والز کے ڈیموکریٹک ٹکٹ کو شکست دی۔
الیکٹورل کالج میں ٹرمپ کی بھاری برتری
ڈونلڈ ٹرمپ (ریپبلکن): 312 الیکٹورل ووٹ
کملا ہیرس (ڈیموکریٹک): 226 الیکٹورل ووٹ
الیکٹورل کالج کے کل ووٹ: 538
جیتنے کے لیے ضروری ووٹ: 270
اس طرح کمیلا ہیرس کو 226 الیکٹورل ووٹ ملے، جب کہ ٹرمپ نے 312 کالیکٹورل ووٹوں کے ساتھ آرام سے کامیابی حاصل کی۔
پاپولر ووٹ (ملک بھر میں)
امریکہ کے ووٹ ڈالنے والے شہریوں میں سے ٹرمپ کو ووٹ کرنے والے کمیلا ہیرس کو ووٹ کرنے والوں سے23 لاکھ کے لگ بھگ زیادہ تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ: تقریباً 77.3 ملین ووٹ (≈49.8%)
کملا ہیرس: تقریباً 75.0 ملین ووٹ (≈48.3%)
ٹرمپ کو جھولتے ووٹروں نے الیکشن جتوایا تھا
الیکشن کیمپین کے درمیان سے اختتام تک کمیلا ہیرس کی کیمپین ٹرمپ کی نسبت بہت سٹرونگ نظر آتی رہی لیکن آخری ایک ڈیڑھ ہفتے کے دوران نمایاں ہونے لگا تھا کہ Swing States (دونوں اطراف جھولتے ہوئے ووٹروں کی ریاستیں) کمیلا ہیرس سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف جا رہی ہیں۔ ٹرمپ 2024 کے صدارتی الیکشن میں تمام سات بڑی سوئنگ سٹیٹس میں پاپولر ووٹوں کے معمولی مارجن سے الیکشن جیت گئے تھے۔ امریکہ کے الیکشن نظام میں ایک خصوصیت یہ ہے کہ کسی ریاست میں مجموعی طور پر الیکشن جیتنے والے کی جیت کا مارجن خواہ چند ووٹ ہی ہو، اس کو اس ریاست کے تمام الیکٹورل ووٹ مل جاتے ہیں۔ سات جھولتی ریاستوں کے ووٹ ٹرمپ کی جھولی میں جا پڑے تو ان کا الیکٹورل ووٹوں کی کمیلا ہیرس پر برتری بہت زیادہ ہو گئی تھی۔
عرب ووٹروں نے ٹرمپ کی حمایت کی
یہ نوٹ کیا گیا کہ جھولتے ووٹروں کی ریاستوں میں عرب نژاد ووٹروں نے نمایاں طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا۔اس وقت یہ قیاس کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے جنگیں بند کروانے کے متعلق جو باتیں کیں انہوں نے عرب نژاد ووٹروں کو ان کی طرف جھکانے میں کچھ کردار ادا کیا تھا۔
سنہ 2024 کے صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی خاتون امیدوار نے ڈیموکریٹ ریاستوں میں بھاری مارجن سے جیت حاصل کی اور ری پبلکن سمجھی جانے والی ریاستوں میں بھی بعض جگہوں پر سرپرائز دیئے لیکن جھولتی ریاستوں نے انہیں ہروا دیا۔ وہ جھولتی ریاستیں یہ تھیں: پنسلوانیا، مشی گن، وسکونسن، جارجیا، ایریزونا، نیواڈا، شمالی کیرولینا
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ڈیزل 135 اور پیٹرول 12 روپے فی لیٹر سستا کرنے کا اعلان
