Thu. Mar 5th, 2026

پارلیمان میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا بل منظور

274516 698136188


پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) اور ایوان زیریں (قومی اسمبلی) نے جمعرات کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کا بل منظور کر لیا ہے۔

ترمیمی بل کے مسودے، جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے، کے مطابق چیئرمین نیب کی مدت میں تین سال کی توسیع ہو سکے گی۔ جبکہ نیب کی عدالت یا ہائی کورٹ کے پاس ضمانت دینے یا رہا کرنے کا اختیار ہوگا۔

ترمیمی بل کے تحت ملزم ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف 30 روز کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کر سکے گا۔

یہ بل پہلے سینیٹ میں سینیٹر عبدالقادر نے پیش کیا، حکومت نے اس میں ترامیم تجویز کیں جس کے بعد اسے سینیٹ سے منظور کیا گیا۔ بعد ازاں اس ترمیمی بل کو قومی اسمبلی سے بھی منظور کیا گیا۔

سینیٹ اجلاس کی کارروائی کے دوران سینیٹر عبدالقادر جب اسے نجی بل کے طور پر پیش کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بل نہ ایجنڈا میں ہے اور نہ ہی اسے ضمنی ایجنڈا کے طور پر لایا گیا۔ جبکہ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ ترمیم حکومت اور ان کے اتحادیوں کے فائدے میں نہیں۔

انہوں نے کہا:’یہ قانون آگے جا کر آپ کو کاٹے گا، یہ قانون سازی صرف ایک شخص عمران خان کے لیے کی جا رہی ہے۔‘

علی ظفر نے کہا کہ ’عمران خان کے کیسز کے فیصلے ہو چکے ہیں اور اپیل ہائی کورٹ میں لگ رہی ہے، جس کے بعد یہ سپریم کورٹ جانا تھی۔ اب یہ کر رہے ہیں کہ نیب کی اپیل سپریم کورٹ کے بجائے آئینی کورٹ جائے، اس کی وجہ لگ رہی ہے کہ سپریم کورٹ حکومت کے ہاتھ میں نہیں ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے انصاف کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ آپ کرمنل کیس آئینی عدالت لے جا رہے ہیں۔ آپ ایسی عدالت میں کیس لے جا رہے ہیں جو حکومت کے کنٹرول میں ہو۔

علی ظفر نے کہا کہ نیب کا چیئرمین وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے بنتا ہے۔ اب آپ یہ کر رہے ہیں کہ نیب چیئرمین کو توسیع دے دیں۔ آپ ایسا کریں کہ جن سب عہدوں کو توسیع دینی ہے ان عہدوں کو تاحیات قرار دے دیں۔

سینیٹ میں لیڈر آف ہاؤس اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ماضی یاد کریں تو 50 سے زیادہ قانون سازی پی ٹی آئی نے جلد بازی میں کی تھی۔ نیب والا پرائیویٹ ممبر بل ہے، اسے کسی نے پڑھا تک نہیں ہے۔ اگر نیب ترمیمی بل میں پی ٹی آئی کو مسئلہ ہے تو یہ بھی اس میں پرائیویٹ ڈے پر ترمیم لے آئیں۔‘

کامران مرتضیٰ نے کہا: ’اب جو ہوگا وہ انصاف کے منافی ہوگا۔ موجودہ چیئرمین چند روز میں فارغ ہونے والے ہیں۔ پہلے چیئرمین نیب کی تقرری میں اپوزیشن کی رضامندی ہوتی تھی، آج اپوزیشن چیئرمین نیب کی تقرری سے مائنس ہو گئی ہے۔ آپ نے اپیل کا فورم تبدیل کر کے آئینی عدالت کو مزید متنازع کر دیا ہے۔ دوسری اپیل کو آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ ہی جانا چاہیے تھا۔‘

بعد ازاں بل کو سینیٹ سے منظور کر لیا گیا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی میں رکن مہ جبین عباسی نے یہ بل پیش کیا۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ  ’50  کروڑ کی سیلنگ میں اضافے کی تجویز ہے، مجرم کو ہائی کورٹ کے ساتھ آئینی عدالت میں جانے کا اختیار ہوگا۔‘

بیرسٹر گوہر نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں 50 کروڑ کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ پہلے یہ قرضے معاف کرتے تھے، اب یہ بھی معاف کرائیں گے۔ اثر و رسوخ والے لوگ اپنے کیسز ختم کرائیں گے۔

گوہر خان نے کہا: ’اس وقت چیئرمین نیب کی مدتِ ملازمت ختم ہو رہی ہے۔ وزیر قانون کے مطابق دو اپیلوں کا حق دیا جا رہا ہے۔ قتل اور ریپ کے کیسز میں دو اپیلوں کا حق نہیں تو یہاں کیوں دیا جا رہا ہے؟‘

 بعد ازاں بیرسٹر گوہر نے حکومت سے بل واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

رکن قومی اسمبلی عالیہ کامران نے کہا کہ چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق شق میثاقِ جمہوریت کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا: ’یہ لوگ تو نیب ختم کرنے جا رہے تھے، اب نظریات بدل گئے ہیں؟ یہاں سپریم کورٹ کو مائنس کر کے اپیل کا حق آئینی عدالت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔‘

اجلاس کے دوران رکن خواجہ اظہار الحسن نے کہا: ’اس طرح کے اہم بل پاس کرنے ہیں تو ہمیں پڑھنے کا موقع تو دیا جاتا۔‘ جس پر وزیر قانون نے جواب دیا کہ ’اگر قانون دوسری اپیل کا موقع دے رہا ہے تو اس کی تعریف کرنی چاہیے۔ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔‘

گوہر خان کہا کہ ’آپ کسی کو یکطرفہ ایکسٹینشن نہیں دے سکتے، یکطرفہ ایکسٹینشن دے کر آپ بندے کو اپنا بنا دیتے ہیں۔‘

بعد ازاں نیب ترمیمی بل 2026 کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *