گذشتہ چند دنوں میں پاکستان، ترکی اور مصر کے ساتھ ایک اہم سفارتی کھلاڑی کے طور پر ابھرا ہے، جو خطے میں جاری لڑائی سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے اور مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کر رہا ہے۔
پاکستان کے اس نمایاں کردار اور میڈیا کوریج نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ آیا یہ ملک محض ایک پیغام رساں کے طور پر کام کر رہا ہے یا ایک ثالث کے طور پر؟
مذاکرات کی حساس نوعیت اور داؤ پر لگی اعلیٰ قیمت کے باعث پاکستان اپنے پس پردہ کردار کے بارے میں محتاط ہے۔
1971 میں پاکستان کی پس پردہ سفارت کاری نے ہنری کسنجر کے بیجنگ کے خفیہ دورے کی راہ ہموار کی تھی، جس کے نتیجے میں امریکہ اور چین کے تعلقات معمول پر آئے۔
اگر پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے ملک کے سفارتی قد کاٹھ میں اضافہ ہو گا۔
فی الوقت پاکستان ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے منفرد پوزیشن میں ہے۔
حالیہ مہینوں میں امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں زبردست بہتری آئی ہے اور ملک کی سیاسی و عسکری قیادت ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتی ہے۔
ایران کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات خوشگوار ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریق پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں۔
تاہم، اگر امریکہ-ایران مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں اور جنگ بندی نہیں ہو پاتی تو اس کے پاکستان کے لیے زبردست تزویراتی، معاشی اور داخلی نقصانات ہوں گے۔
سرحدی سکیورٹی: اگر پاکستان جنگ میں شامل ہوتا ہے تو اس کی پوری مغربی سرحدیں گرم (اشتعال انگیز) ہو جائیں گی۔
پاکستان پہلے ہی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرحد پار دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر سے نبرد آزما ہے۔ مزید برآں، مشرقی سمت میں انڈیا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔
ایران کے ساتھ کشیدگی کے نتیجے میں میزائل اور ڈرون حملے ایک بھیانک خواب جیسی صورت حال پیدا کر دیں گے۔
یہ صورت حال پاکستان افواج کو مزید مصروف کر دے گی، نایاب وسائل ختم ہوں گے اور سکیورٹی کا ایسا خلا پیدا ہو گا جس کا عسکریت پسند گروپ فائدہ اٹھائیں گے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اگر ایران کی موجودہ حکومت ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ اسرائیل نواز نظام آ جاتا ہے تو پاکستان کے دونوں اطراف (مغرب اور مشرق) میں دو معاندانہ اداکار، یعنی اسرائیل اور انڈیا ہوں گے۔
پاکستان مشرق وسطیٰ سے توانائی کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
جاری جنگ اور عالمی توانائی کے بحران نے پہلے ہی پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا کوئی بھی فیصلہ ملک کی فرقہ وارانہ فالٹ لائنوں کو ہوا دے سکتا ہے۔
ایران میں سرگرم مختلف دھڑے فرقہ وارانہ پراکسی کارڈ کھیل کر پاکستان میں تناؤ پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
پاکستان ایک ’ہائی رسک، ہائی ریوارڈ‘ (زیادہ خطرہ، زیادہ فائدہ) والی سفارت کاری میں مصروف ہے۔
اگر یہ کامیاب ہوتی ہے تو معاشی، سکیورٹی اور شہرت کے فوائد حاصل ہوں گے، لیکن ناکامی کی صورت میں ملک کے تزویراتی، معاشی اور سفارتی منظر نامے مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
(مصنف سنگاپور کے ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ ایکس: basitresearcher@)
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔