حکومت کے فیصلہ پر اپوزیشن کا ردعمل، عوام کو حقیقی راحت نہ ملنے کا الزام
نئی دہلی ۔27؍مارچ ( ایجنسیز)پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کے حکومت کے فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے عدم اطمینان ظاہر کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس اقدام سے عوام کو کوئی حقیقی راحت حاصل نہیں ہوئی کیونکہ پٹرول اور ڈیزل مطلوبہ مقدار میں دستیاب ہی نہیں ہے۔ مختلف اپوزیشن لیڈروں نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس میں کمی کے باوجود زمینی سطح پر صورتحال میں نمایاں تبدیلی نظر نہیں آ رہی۔کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی آمدنی دراصل عوام سے ٹیکس کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کی جاتی ہے تو یہ حکومت کی جانب سے کوئی الگ مالی قربانی نہیں بلکہ وہی رقم ہے جو عوام سے وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس فیصلے کو غیر معمولی طور پر پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔آر جے ڈی رکن میسا بھارتی نے کہا کہ قیمتوں میں معمولی کمی کے باوجود پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی جیسی ضروری اشیاء کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق کئی مقامات پر طویل قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور قلت کے باعث عام شہری کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں اس صورتحال کی عکاسی کر رہی ہیں۔ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ ساگاریکا گھوش نے بھی کہا کہ گزشتہ ہفتوں کے دوران سپلائی کے حوالے سے تسلی بخش دعوے کیے جاتے رہے تاہم موجودہ حالات اس کے برعکس ہیں۔ ان کے مطابق ایل پی جی کی قلت نے چھوٹے کاروباروں، ریستوران، مزدوروں، طلبہ اور بزرگوں کو متاثر کیا ہے۔اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق موجودہ حالات میں کیے گئے فیصلے عوامی مشکلات کو کم کرنے کیلئے ناکافی ہیں اور اس کے اثرات زمینی سطح پر محدود دکھائی دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی 13 روپے فی لیٹر سے کم کر کے 3 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر سے کم کر کے صفر کر دی گئی ہے جس کا اطلاق فوری طور پر کیا گیا ہے۔
