Tue. Mar 31st, 2026

چین اور پاکستان کا ایران سے سیزفائر، خلیج میں استحکام اور آبنائے ہرمز پر محفوظ راستوں کا مطالبہ

394011 174900763


چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 31 مارچ 2026 کو بیجنگ میں ملاقات کی جس میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مشترکہ بیان میں کہا گہا ہے کہ؛

1- فوری سیزفائر کیا جائے
2- ہیومینیٹیرین رسائی کو یقینی بنائیں
3- شہریوں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ۔
4- ایران اور خلیجی ریاستوں میں استحکام کے تحفظ کے لیے فوری امن مذاکرات
5- فوجی کشیدگی پر بات چیت اور سفارت کاری۔
6- آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری راستوں کا تحفظ
7- خلیجی خطے میں دیرپا امن کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت فریم ورک کی حمایت
یہ نکات دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر پیش کیے۔

مشترکہ بیان کی تفصیلات:

1- فوری سیزفائر کیا جائے

چین اور پاکستان نے فوری طور پر جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تنازع کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں۔ تمام متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔

2- ہیومینیٹیرین رسائی کو یقینی بنائیں

جنگ سے متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی رسائی کو یقینی بنایا جائے۔

3- شہریوں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ۔

بیان میں کہا گیا کہ مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے اصول پر عمل کیا جائے۔ چین اور پاکستان نے فریقین پر زور دیا کہ وہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے فوری طور پر بند کریں، بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں، اور توانائی، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، بجلی گھروں اور پرامن جوہری تنصیبات جیسے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے گریز کریں۔

4- ایران اور خلیجی ریاستوں میں استحکام کے تحفظ کے لیے فوری امن مذاکرات

دونوں ممالک نے کہا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔

5- فوجی کشیدگی پر بات چیت اور سفارت کاری۔

چین اور پاکستان نے متعلقہ فریقین کو مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام فریق امن کے ذریعے تنازعات کے حل کے لیے پرعزم ہوں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔

6- آبنائے ہرمز اور خلیجی بحری راستوں کا تحفظ

آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ سمندری علاقے عالمی سطح پر سامان اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہیں۔ چین اور پاکستان نے فریقین پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنائیں، شہری اور تجارتی جہازوں کی محفوظ اور جلد آمدورفت کی اجازت دیں، اور اس اہم گزرگاہ میں معمول کی بحالی کو یقینی بنائیں۔

7- خلیجی خطے میں دیرپا امن کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت فریم ورک کی حمایت

چین اور پاکستان نے حقیقی کثیرالجہتی نظام کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کے کردار کو مضبوط بنانے اور یو این چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق جامع امن کے قیام کے لیے معاہدے کی حمایت پر زور دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام فریقین کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا ہو گا۔





Source link

By uttu

Related Post

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *